آسٹریلیا کی ریاست تسمانیہ کے ساحل پر 150 سے زائد فالس کلر وہیلز پھنس گئی، جن میں سے کچھ زندہ ہیں جبکہ ماہرین انہیں بچانے کی کوشش کر رہے ہیں۔تسمانیہ پارکس اور وائلڈ لائف سروس کے حکام کے مطابق 157 وہیل مچھلیوں میں سے صرف 90 کے زندہ ہونے کی اطلاعات سامنے آئی ہیں جب کہ ماہرین اس بات کا پتا چلانے کی کوشش کررہے ہیں کہ زندہ بچ جانے والی مچھلیاں واپس تیر سکتی ہیں یا نہیں۔محکمہ قدرتی وسائل اور ماحولیات نے ایک بیان میں بتایا کہ فالز کلر وہیلز تقریباً 24 سے 48 گھنٹے سے پھنسے ہوئی ہیں اور ماہرین ساحل پر موجود ہیں۔انہوں نے یہ بھی بتایا کہ وہیلز کو دوبارہ تیراکی کی جانب لانا ایک مشکل کام ہے اور اس میں ریسکیو اہلکاروں کی زندگیوں کو بھی خطرہ ہوسکتا ہے کیونکہ ساحل تک رسائی نہ ہونا سمندر کے حالات اور دور دراز کے ساحل تک آلات کی رسائی کے چیلنجز ریسکیو عمل کو پیچیدہ بنا رہے ہیں۔”فالس کلر وہیل” دراصل ایک سمندری ڈولفن کی قسم ہے جو 20 فٹ تک لمبی اور6,600 پاؤنڈ تک وزنی ہو سکتی ہے۔ فالز کلر وہیل ڈولفن کی ایک خطرے سے دوچار نسل ہے جو کہ کلر وہیلز سے مشابہت رکھتی ہیں