امریکا کی کئی یونیورسٹیوں کے تقریباً 450 بین الاقوامی طلبا کے ویزے غیر متوقع طور پر اچانک منسوخ کردیے گئے ہیں۔ امریکی میڈیا کا کہنا ہے کہ ویزا منسوخی بغیر پیشگی اطلاع اور قانونی کارروائی کے کی گئی۔امریکی میڈیا کے مطابق جن یونیورسٹیوں کے طلبہ کے ویزے منسوخ کیے گئے ہیں ان کے ویزا منسوخی کی کئی وجوہات ہوسکتی ہیں۔امریکی میڈیا کے مطابق ویزے منسوخ کرنے پرامریکی جامعات نے حکومت سے وضاحت مانگ لی۔امریکی میڈیا کے مطابق ویزا منسوخی کی کئی وجوہات ہوسکتی ہیں تاہم کالجز اور یونیورسٹیوں سے وابستہ اہلکاروں کا کہنا ہے کہ حکومت خاموشی کے ساتھ یہ اقدام کررہی ہے۔ٹرمپ حکومت فلسطین کے حق میں آواز بلند کرنے والے طلبا کو خاص طور پر نشانہ بنا رہی ہے تاہم بعض افراد کے ویزے کسی مظاہرے میں حصہ نہ لینے کے باوجود بھی منسوخ کر دیے گئے۔ بعض کیسز میں کہا گیا ہے کہ طلبہ نے ٹریفک قوانین کی خلاف ورزی کی تھی۔جن یونیورسٹیوں کے طلبا کے ویزے منسوخ کیے گئے ان میں ہارورڈ،اسٹینفورڈ، یو سی ایل اے، یونیورسٹی آف مشیگن سمیت کئی تعلیمی ادارے شامل ہیں۔امریکی میڈیا کے مطابق پچھلے چند روز میں 141 بین الاقوامی طلبہ کے ویزے منسوخ کیے گئے ہیں جبکہ امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے ایک ہفتہ پہلے بتایا تھا کہ تین سو طلبہ کے ویزے منسوخ کیے جاچکے ہیں ماضی میں ویزا منسوخ ہونے کی صورت میں بھی طلبہ کو اجازت تھی کہ وہ رہائشی اسٹیٹس برقرار رکھیں اور تعلیم مکمل کرلیں۔وہ صرف اپنے وطن لوٹ نہیں سکتے تھے کیونکہ اس صورت میں انکی واپسی دوبارہ ویزا سے مشروط ہوتی تھی. تاہم امریکی میڈیا کے مطابق ویزا منسوخی ٹرمپ انتظامیہ کے وسیع پیمانے پرکریک ڈاؤن کاحصہ ہیں طلبہ کو حراست میں لینے اور ملک بدری کے خطرات موجود ہیں۔