امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے نئی سفری پابندی ممالک کی سیکیورٹی اور جانچ کے خطرات کے بارے میں حکومتی جائزے کی بنیاد پر اگلے ہفتے افغانستان اور پاکستان کے لوگوں کو امریکا میں داخلے سے روک سکتی ہے.اس فیصلے کی بنیاد حکومت کی جانب سے سیکیورٹی اور ویزا جانچ کے خطرات کے جائزے پر رکھی گئی ہے۔تین ذرائع نے بین الاقوامی میڈیا کو نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا ہے کہ دیگر ممالک بھی اس فہرست میں شامل ہو سکتے ہیں لیکن ان کے نام ابھی واضح نہیں ہیں۔ اس حکم نامے میں کابینہ کے متعدد ارکان کو ہدایت کی گئی تھی کہ وہ 12 مارچ تک ان ممالک کی فہرست پیش کریں جہاں سے سفر جزوی یا مکمل طور پر معطل کیا جانا چاہیے کیونکہ ان کی جانچ پڑتال اور اسکریننگ کی معلومات بہت کم ہیں۔ اس حکم کے مطابق، 12 مارچ تک مختلف حکومتی اداروں کو ایسے ممالک کی فہرست تیار کرنی تھی، جہاں ویزا جانچ اور سیکیورٹی معلومات میں شدید کمی پائی جاتی ہے۔ذرائع کے مطابق پاکستان کا نام بھی اس فہرست میں شامل کیے جانے کی تجویز دی گئی ہے۔ اگر ایسا ہوا تو پاکستانی شہریوں کے لیے امریکہ میں داخلہ مزید مشکل ہو جائے گا۔اس پابندی کے باعث ہزاروں افغان شہری متاثر ہو سکتے ہیں جو امریکہ میں بطور مہاجر یا اسپیشل امیگرنٹ ویزا ہولڈرز آباد ہونے کے منتظر ہیں۔ ان میں وہ افراد شامل ہیں جو امریکی افواج کے لیے کام کر چکے ہیں اور طالبان کے انتقام کا خطرہ رکھتے ہیں۔صدر ٹرمپ کی ہدایت امیگریشن پر سخت پابندیوں کا حصہ ہے جس کا انہوں نے اپنی دوسری مدت کے آغاز میں اعلان کیا تھا۔ اکتوبر 2023 کی ایک تقریر میں انہوں نے کہا تھا کہ وہ غزہ، لیبیا، صومالیہ، شام، یمن اور دیگر ایسے ممالک کے شہریوں کی امریکا میں آمد کو محدود کریں گے جہاں سے قومی سلامتی کو خطرہ ہو سکتا ہے یہ فیصلہ ٹرمپ کی 2017 میں عائد کردہ متنازع مسلمانوں پر پابندی کی یاد دلاتا ہے جسے سپریم کورٹ نے 2018 میں برقرار رکھا تھا۔ تاہم سابق صدر جو بائیڈن نے 2021 میں اس پابندی کو ختم کر دیا تھا اور اسے “قومی ضمیر پر ایک بدنما داغ” قرار دیا تھا۔