دیدہ و دل نے درد کی اپنے بات بھی تو کس سے کی
وہ تو درد کا بانی ٹہرا.. وہ کیا درد بٹلائے گا
جی ہاں یہ ہے وہ کیفیت جو اس وقت تحریک انصاف پر طاری ہے عمران خان شدت سے چاہ رہے ہیں کہ اسٹیبلشمنٹ سے وہ پرانی محبت بحال ہوجائے لیکن یہ بحالی ان ہی کی شرائط پر ہو مذکرات اور احتجاجی سیاست کے بیچ پھنسی ہوئی پی ٹی آئی کو ایک راہ کے انتخاب میں شوشل میڈیا کے واریئرز اور آپس میں بٹی ہوئی قیادت ایک رکاوٹ بنی ہوئی ہےاور اب تو بات اتنی بڑھ گئی ہے کہ فیلڈ مارشل آصف منیر کو بیرون ملک مظاہرے اور سوشل میڈیا پر قتل کی دھمکی دیکر 9 مئی سے بھی آگے کی ریڈ لائین کو عبور کرلی گئی ہے .. اور یہی ہے میرا آ ج کا موضوع .. نیوز ویلی سے میں ہو سراج احمد اگر آپ نے اب تک میرے چینل کو سبسکرائیب نہیں کیا ہے تو پلیز اسے سبسکرائب کیجئے وڈیو کو لائیک اور شئیر کیجئے اور کمنٹ سیکشن میں جاکر اپنی رائے سے ضرور آگاہ کیجئے ..
تحریک انصاف کی سیاست پر نظر ڈالیں تو ہمیں واضح طور پر اندازہ ہوتا ہے کہ اور سئیز پاکستانیوں میں بنایا گیا بیانیہ مقامی قیادت ارادے سے متصادم ہے.وزیر اعظم میاں شہباز شریف کی جانب سے مذاکرات کی پیشکش اور عمران خان کی جانب سے متحدہ اپوزیشن کے سربراہ محمود اچکزئی کو مذاکرات کے عمل آگے بڑھانے پر جب محمود خان اچکزئی نے آمادگی کا اظہار کیا تو پی ٹی آئی کے سوشل میڈیا پر اس سے انکار کردیا گیا جوکہ عمران خان کے ٹوئیٹ کو بتایا گیا جبکہ ایک اور انتہا پسند قدم کے طور پر لندن میں پاکستانی سفارت خانے کے باہر مظاہرے میں نہ صرف فیلڈ مارشل عاصم مینر کو قتل کی دھمکیاں دی گئی بلکہ ایک کار بم دھماکے میں ان کے قتل کا ایک منصوبہ بھی بتایا گیا.اب یہ تو کسی بھی صورت میں فوجی اسٹیبلشمنٹ کویہ قبول نہیں ہوگا قبل ازیں تحریک تحفظ ائین کے سربراہ محمود خان اچکزئی جنھیں عمران خان نے مذاکرات کے لئے نامزد کیا تھا جب حکومت کی پیشکش پر آمادگی کا اظہار کیا تو عمران خان کی بہن علیمہ خان نے کہہ دیا کہ کوئی مذاکرات نہیں ہونگے اور یہ عمران خان کا فیصلہ ہے .
اس موقع ہر ہمیں یہ بات بھی مدنظر رکھنی ہوگی کہ عمران خان اڈیالہ جیل میں قید ملکی سیاست سے براہ راست واقف نہیں ہیں انھیں صرف وہ ہی معلوم ہے جو ان سے ملاقات والے بتاتے ہیں اور انہیں یہ باور کراتے ہیں کہ عوام اور فوج کا بڑا حصہ ان کا حامی ہے اور انقلاب تیار ہے اور جناب جب بھی مفاہمت کی کوئی بات ہوتی ہے تو بیرون ملک سے ہینڈل کئے جانے والے سوشل میڈیا پلیت فارمز سے عمران خان کے بیان جاری ہونا شروع ہوجاتے ہیں جس سے سب کچھ ثبوتاز ہوجاتا ہے .. عمران خان اور سوشل میڈیا درمیان ہونے والا رابطہ ان سے ملاقات کے لئے آنے والے محدود افراد کے ذریعے ہوتا ہے جبکہ بعض اوقات عمران خان سے ملاقات کے بغیر ہی ٹوئیٹ ہوجاتا ہے جس میں عمران خان کی منشا شامل ہو یا نہیں اس کے بارے میں کچھ کہا نہیں جاسکتا خیال کے مطابق ان سے ملاقات کے لئے آنے والے اپنی خواہشات ان تک پہنچاتے ہیں اور اس کے ردعمل کو سوشل میڈیا پر جاری کردیا جاتا ہے جو صرف اور صرف تصادم کی طرف جاتا ہے..
آئیے ذرا تحریک انصاف کی تشکیل سے لیکر اب تک کی ان کی سیاسی جدوجہد پر نظرڈالتے ہیں .. عمران خان نے 25 اپریل 1996 کو تحریک انصاف کی بنیاد رکھی اور طویل عرصے تک پی ٹی آئی ایک نشت کی جماعت رہی جو عمران خان کی خود کی نشست ہوتی تھی..عمران خان کا پارلیمنٹ سے مستعفی ہونا لگتا ہے پرانا طریقہ کار ہے اس دوران بھی وہ اپنی نشست سے مستعفی ہوتے رہے ..پھر اچانک دو ہزار کی دہائی میں اس جماعت کی مقبولیت میں اضافہ ہونا شروع ہوگیا 2008 کے انتخابات میں بائیکاٹ کے بعد 2013 کے عام انتخابات میں تحریک انصاف کو سات اعشاریہ پانچ ملین ووٹ ملے جس سے پی ٹی آئی پارلیمنٹ میں تیسری اور ووٹ کے لحاظ سے دوسری بڑی جماعت کے طور پر سامنے آئی نیا پاکستان اور تبدیلی کے نعرے نے تحریک انساف کو عوام باالخصوص نوجوانوں اور خاص طور پر خواتین میں مقبول کردیا کہا جاتا ہے کہ اس دوران اسٹبلشمنٹ عمران خان اور ان کی جماعت کی طرف متوجہ ہوئی..
تحریک انصاف کی احتجاج اور دھرنوں کی سیاست نے عوام میں مقبولیت حاصل خاص طور پر آزادی مارچ کا اسلام آ باد دھرنہ پاکستان کی تاریخ کا طویل ترین دھرنا رہا لیکن آرمی پبلک اسکول کے سانحے پر عمران خان کو یہ دھرنا سمیٹنا پڑگیا لیکن اسٹیبلشمنٹ اور عدالت نے عمران خان کو مایوس نہیں کیا.. پانامہ لیکس کے ایک کیس میں نواز شریف کی سپریم کورٹ سے نااہلی عمران خان کی کامیابی سمجھا جاتا ہے یہ بھی کہا جاتا ہے کہ نواز شریف کی اسٹیبلشمنٹ سے دوریاں اور نئی قیادت کے لئے عمران خان پر اعتماد بھی اس کا بڑا سبب ہے..پھر پاکستان کے عوام نے وہی منظر دوبارہ دیکھا اسٹیبلشمٹ کا محبوب 2018 کے انتخابات میں 16 اعشاریہ نو ملین ووٹ لیکر کامیاب ہوا جو ووٹنگ کے لحاظ سے دوسری سیاسی جماعتوں سے زیادہ تھے لیکن ماضی سے سبق لیتے ہوئے انہیں دو تہائی تو کیا سادہ اکثریت بھی نہیں دلائی گئی اور سب سے زیادہ ووٹ لینے والی جماعت کو پانچ دیگر سیاسی جماعتوں کے ساتھ مل کر حکومت بنانی پڑی ..پھر صاحب وہی کہانی بھر دوبارہ شروع ہوئی جو اس ملک میں اسٹیبلشمنٹ کے سہارے سے کامیابی حاصل کرنے والوں کے ساتھ ہوتا ہے اقتدار میں آتے ہی سیاسی رہنما یہ سمجھنے لگتے ہیں کہ وہ عوام کے مقبول ترین لیڈر ہیں اور انہیں اب اسٹیبلشمنٹ کی ضرورت نہیں بلکہ وہ اسٹیبلشمنٹ کی ضرورت ہیں اور وہ آ نکھیں دیکھانے لگتے ہیں اورپھر انہیں نشان عبرت بنا دیا جاتا ہے اس کی مثالوں میں محمد خان جونیجو، نوازشریف ،الظاف حسین اور عمران خان ہیں جن پر سیاست تنگ کردی گئی .. ضیاء الحق کے غیرجماعتی انتخابات میں بننے والے وزیراعظم محمد خان جونیجو طاقت حاصل کرنے کے بعد ضیاء الحق کے اختیار کو چیلنج کرنے لگے بیورو کریٹس اور فوجی جرنیلوں سے لگژری گاڑیاں لینے کے فٰیصلوں سمیت دیگر احکامات ضیاء الحق کو پسند نہیں آئے اور انہیں وزارت عظمیٰ سے محروم ہونا پڑ گیا .. اور پھر یہی سے اسٹیبلشمنٹ کا سویلین سیاست دانوں سے محبت کا سلسلہ شروع ہوا فضائی حادثے میں ضیاء الحق اور اعلیٰ فوجی قیادت کی ہلاکت کے باعث اسٹیبلشمنٹ کی نئی محبت کا آغاز نہیں ہوا تھا تاہم ضیاء الحق کے زمانے میں ہی سندھ میں پیپلزپارٹی کی مقبولیت کو توڑنے کے لئے قوم پرست پارٹیوں بالخصوص ایم کیو ایم اور ان کے قائد الطاف حسین پر نظر کرم جاری تھی اس دوران انتخابات میں پیپلزپارٹی جیت گئی اور مرکز میں حکومت بنا لی محترمہ بے نظیر بھٹو وزیراعظم بن گئی تاہم ان کے دور حکومت میں جو کانتے بچھائے گئے انہوں نے اس حکومت کو زیادہ چلنے نہیں دیا اور پھر اسٹیبلشمنت کے محبوب بنے نواز شریف ….
اس محبت میں اسٹیبلشمنٹ نے ایک بڑی غلطی کردی اور نواز شریف اسمبلی میں دوتہائی اکثریت لے آئے اور میاں نواز شریف نے خود کو بادشاہی پر فائز کردیا فوجی سربراہوں کی تبدیلی ہو یا من پسند قانون سازی ان کو کوئی روکنے ولا نہیں تھا لیکن ان کا یہ انداز انہیں لے ڈوبا نواز شریف کے دونوں ادوار میں ان کا ٹکراؤ طاقت کے ستونوں سے رہا اور انہوں نے بھی خود کو مقبول ترین رہنما سمجھنا شروع کردیا یہی وجہ ہے کہ اسٹیبلشمنٹ سے دوبارہ دوستی کے باوجود وہ تیسری مدت کے لئے وزیراعظم نہ بن سکے اور وہ اپنے بھائی شہباز شریف کےذریعے پراکسی حکومت کررہے ہیں..
یہ تو تھا اسٹیبلشمنٹ کی کی پسند کا ایک مختصر جائزہ اب ہم بڑھتے ہیں تحریک انصاف اور اسٹیبلشمنٹ سے محبت اور اس سے دوری کی جانب .. عمران خان اور نواز شریف میں فرق یہ ہے کہ نوازشریف نے اسٹیبلشمنٹ سے دوری کے باوجود راستے بند نہیں کئےلیکن عمران خان ایک روٹھے ہوئے ٹین ایج محبوب کی طرح فوجی اسٹیبلشمنٹ پر حملے بھی کررہے ہیں اور ان سے پرانی محبت بھی مانگ رہے ہیں یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ عمران خان کا جیل میں ہونا ان تک رسائی پانے والے افراد کی اپنی مرضی کی بریفنگ ان کے درست سیاسی فیصلے کرنے میں رکاوٹ ہیں پارٹی پر قبضے اور آپس کے اختلافات بھی اس کی بڑی وجہ ہیں عمران خان کی رہائی کے لئے اسلام آباد پر کامیاب چڑھائی اور اس کا اختتام انتہائی مضحکہ خیز ہونا .. اس کی مثال ایک مرتبہ سابق وزیر اعلیٰ علی امین گنڈا پور کی اسلام آباد پر کامیاب چڑھائی کے بعد وہ اچانک کارکنوں چھوڑ کر غائب ہوگئے اور جاکر کے پی کے میں نمودار ہوئے اور دوسری مرتبہ عمران خان کی رہائی کا مشن لیکر بشریٰ بی بی کے ہمراہ اسلام آباد پر چڑھائی کی اور ڈی چوک پر کارکنوں کو شیلنگ کے بیچ چھوڑ کر بشریٰ بی بی کے ہمراہ نکل گئے اور پھر کے پی کے میں نمودار ہوئے اس طرح کے احتجاج کے باعث اب عمران خان کی رہائی کی جدوجہد خیبر پختونخواہ تک محدود ہوتی جارہی ہے
پاکستان میں لانگ مارچ اور دھرنوں سے شہرت پانے والی تحریک انصاف پاکستان کی واحد سیاسی جماعت نہیں ہے جس نے اپنے مطالبات کے لئے یہ انداز اپنایا ہو .. پاکستان کی احتجاجی تحریکوں میں لانگ مارچ اور دھرنے کوئی نئی بات نہیں ہے ماضی میں اسلام آباد میں پہلا دھرنا چار اور پانچ جولائی 1980کو ہوا جب تحریک نفاذ جعفریہ نے ضیاء الحق کے زکواۃ و عشر آرڈینس کے خلاف پارلیمنٹ ہاؤس کے سامنے دیا یہ دارالحکومت میں اپنی نوعیت کا پہلا دھرنا تھا اس کے لئے نہ تو کنٹیر لگائے گئے نہ کی آنسو گیس کا استعمال ہوا اس دھرنے سے تحریک نفاذ فقہ جعفریہ نے اپنا مقصد حاصل کرلیا اور ضیاء الحق کو شعیہ کمیونٹی کو زکواۃ اور عشر آرڈینس سے استثنیٰ دے دیا..اس کے باجود اسلام آباد میں دھرنوں کا رواج نہ تھا اگر کوئی احتجاج کے سامنے پہنچ بھی جاتا تو تھوڑی دیر میں منتشر ہوجاتا تھا پھر یہ خیال محترمہ بے نظیر بھٹو کو آیا انہوں نے 1990 کی کے انتخابات میں مبینہ دھاندلی کے خلاف 10 نومبر 1992 کو لانگ مارچ کا اعلان کیا بے نظیر بھٹو نے نوازشریف اورصدر غلام اسحاق خان کی چپقلش کا فائدہ اٹھانے کی کوشیش کی تھی 26 مئی 1993 کو نواز شریف کے عدالت سے بحالی کے بعد بے نظیر بھٹو نے ایک بار بھر لانگ مارچ کا اعلان کیا لیکن اب اسلام اباد انہیں خاردار تاروں سے بند ملا لیکن بے نظیر بھٹو کے اس دباؤ کا فائدہ اٹھاتے ہوئے فوجی سربراہ جنرل وحید کاکڑ اور صدر اسحاق خان نے نواز شریف کو مستعفی ہونے پر مجبور کردیا.. مارچ 1996میں جماعت اسلامی نے قاضی حسین احمد کی قیادت میں ملین مارچ کیا جس کا مقصد بے نظیر بھٹو کی حکومت کا خاتمہ تھا پولیس نے دھرنے کو آبپارہ پر روک لیا اور ان پر بے انتہا شلیلنگ کی یہ پہلا موقع تھا جب اسلام آباد کے مکین آنسو گیس سے آشنا ہوئے اس دوران آنسو گیس کے شیل رہائشیوں کے گھروں تک آکر گرے بعدازاں تیسرے روز مظاہرین کو پارلیمنٹ ہاؤس تک آنے دیا گیا لیکن بھر ان پر بے پناہ شیلنگ کی گئی تاہم شام تک جماعت اسلامی کے کارکن منتشر ہوگئے اس دھرنے کے ایک ماہ بعد صدر فاروق لغاری نے اسے عوامی ردعمل سمجھتے ہوئے بے نظیر بھٹو کی حکومت برطرف کردی.. نومبر میں جنرل پرویز مشرف کی جانب سے سپریم کورٹ کے چیف جسٹس افتخار چوہدری کو ہٹانے پر وکلاء نے تحریک شروع کی اور ملک بھر میں احتجاج شروع ہوا وکلاء رہنماوں نے اعتزاز حسین ،منیر اے ملک اور علی احمد کرد کی قیادت میں جون 2008 میں پہلا لانگ مارچ شروع کیا گیا جو با آسانی پارلیمنٹ کے سامنے پہنچ گیا لیکن اس مارچ کو کامیابی نہ مل سکی مارچ 2009 کو ایک بار پھر لانگ مارچ شروع کیا گیا اس بار اس کی قیادت میاں نواز شریف کررہے تھے مارچ راستے میں ہی تھا کہ اس وقت کے وزیراعظم یوسف رضا گیلانی نے افتخار چوہدری اور دیگر معزول ججوں کو بحال کردیا 17 جنوری 2013 کو پاکستان عوامی تحریک نے مولانا طاہرالقادری کی قیادت میں پیپلزپارٹی کے دور حکومت میں انتخابی اصلاحات کے لئے لاہور سے اسلام آباد کے لئے مارچ کیا جوکہ سخت سردی میں چار روز تک جاری رہا اور حکومت سے مذاکرات میں کامیابی کے دعوے پر ختم ہوگیا جس کے بعد ایک مرتبہ پھر اگست 2014 میں طاہر القادری نے ماڈل ٹاؤن سانحے پر تحریک انصاف ساتھ مل کر مارچ کا اعلان کیا تحریک انصاف نے مبینہ طور پر انتخابی دھاندلیوں اور چار حلقے کھلوانے کو مارچ کا جواز بنایا اور اسلام آباد پہنچنے کے بعد انہیں آبپارہ چوک پر رہنے کی اجازت دی گئی جہاں پر تحریک انصاف اور پاکستان عوامی تحریک الگ الگ جلسے کرتی رہی اور پھر انہوں نے پارلیمنٹ ہاؤس جانے کا اعلان کردیا پولیس کے ساتھ تصادم اور شیلنگ کے باوجود 20 اگست کو عمران خان اور طاہرالقادری ریڈ زون میں داخل ہوگئے دھرنے کے شرکاء نے پارلیمنٹ ہاؤس اور وزیر اعظم ہاؤس کی طرف مارچ کیا لیکن با لاخر طاہر القادری نے 70 دن اور عمران خان نے 126 دن کا طویل دھرنا ختم کردیا ..
نومبر 2017 میں جب وزیراعظم میاں نواز شریف کو عدالت کی جانب سے نااہل کردیا گیا تھا اور شاہد خاقان عباسی وزیراعظم تھے اس دوران انتخابی فارم میں تبدیلی کے خلاف توہین مذھب کا نعرہ لگا کرعلامہ خادم رضوی نے اسلام اباد کا رخ کیا اور راولپنڈی اسلام اباد کو ملانے والے فیض آباد چوک پر دھرنا دے دیا ٹی ایل پی کا یہ دھرنا وزیر قانون زاھد حامد کے مستعفی ہونے اور جنرل فیض حمید کے بطور ضامن کے دستخط کے بعد یہ دھرنا ختم ہوگیا یہ دھرنا 22 روز تک جاری رہا.. مارچ 2019 میں عمران خان کی حکومت کے دوران آزادی مارچ کا اعلان کیا گیا جس کی قیادت جمعیت علماء اسلام ف کے سربراہ مولانا فضل الرحمان کرہے تھے جبکہ اس میں مسلم لیگ نون اور پیپلزپارٹی بھی شامل تھی اس دھرنے نے عمران خان کے مستعفی ہونے کا مطالبہ کیا تھا تاہم مسلم لیگ ق کی قیادت سے مذاکرات اور کچھ یقین دھانیاں لینے کے بعد یہ دھرنا ختم ہوگیا .. 27 مارچ 2022 کو پیپلزپارٹی کے چئیرمین بلاول بھٹو زرداری نے لانگ مارچ شروع کیا کراچی سے اسلام آباد تک کے مارچ میں صرف پیپلزپارٹی ہی شامل تھی یہ 8 مارچ کو اسلام آباد کے ڈی چوک پر ایک جلسے کے بعد اس کا اختتام ہوگیا..
عمران خان کی حکومت کے خاتمے کے کے بعد تحریک انصاف نے لانگ مارچ کا اعلان کیا جس میں عمران خان کا کارکنوں کو براہ راست اسلام آباد پہنچنے کا کہا گیا تھا جبکہ عمران خان پشاور سے ریلی کی قیادت کرتے ہوئے اسلام آباد کے لئے روانہ ہوئے 25 مئی 2022 کو ملک گیر احتجاج کی بھی کال دی گئی تھی اسلام آباد میں مسلم لیگ نون کی حکومت کو مستعفی ہونے کے لئے چھ روز کی مہلت دینے کے بعد عمران خان اسلام آباد سے روانہ ہوگئے جلد ہی عمران خان نے ایک اور لانگ مارچ کا اعلان کیا جو کہ لاہور سے اسلام آباد کے لئے روانہ ہوا لیکن وزیر آباد میں عمران خان پر قاتلانہ حملے اور ان کے زخمی ہونے کے بعد یہ مارچ بھی ختم ہوگیا
9 مئی 2023 کو القادر ٹرسٹ کیس میں احاطہ عدالت سے عمران خان کی گرفتاری نے کارکنوں کو مشتعل کردیا کارکنوں نے فوج کی تنصیبات پر حملے شروع کردئے اور لاہور میں کو کمانڈر کی رہائش گا ہ کو نشانہ بنایا گیا جہاں سے تحریک انساف اور فوجی اسٹیبلشمنٹ کے درمیاں مذید دوریاں بڑھنا شروع ہوگئی عمران خان کی گرفتاری کے بعد دو مرتبہ پشاور سے اسلام اباد کے لئے مارچ کئے گئے جو اپنے مقاصد حاصل کرنے میں کامیاب نہیں ہوئے
لانگ مارچ اور دھرنوں سے معروف پاکستان تحریک انصاف اب تھکاوٹ کا شکار نظر آرہی ہے عمران خان نے متحدہ اپوزیشن کو سیاسی راستہ نکالنے کا ٹاسک دیا ہے اس سے قبل بھی پارلیمانی سطح پر حکومت سے مذاکرات کئے گئے لیکن عمران خان کے بے لچک رویے کی وجہ سے یہ بیل بھی مونڈ ھے نہ چڑھ سکی بظاہر لگتا ہے کہ قیادت کا ایک حصہ جس میں علیمہ خان بھی شامل ہیں بدستور احتجاجی سیاست کو جاری رکھنا چاہتی ہے جس کی بڑی وجہ اورسیز پاکستانی ہیں جو عمران خان کو کسی مصلحت کا شکار ہونے نہیں دیکھنا چاہتے اور یہ اورسیز پاکستانی تحریک انصاف کی فنڈنگ کا سب سے بڑا ذریعہ ہیں جن کی رائے کو پی ٹی آئی نظر انداز نہیں کرسکتی اور سیز پاکستانی جو کہ سوشل میڈیا کے متاثرین ہیں مذاکرات میں سب سے بڑی رکاوٹ ہیں اسٹیبلشمنٹ سے مذکرات کا دعویٰ کرنے والے سابق وزیر اعلیٰ کے پی کے علی امین گنڈا پور نے ان مذاکرات میں علمہ خان کو ہی
رکاو ٹ قرار دے دیا تھا انہوں نے اپنے ایک وڈیو بیان میں الزام عاید کیا کہ علمہ خان پارٹی پر قبضہ کرکے خود سربراہ بننا چاہتی ہیں علی امین گنڈا پور کی کھلے عام شکایت کی انہیں سزا مل گئی اور وہ وزارت اعلیٰ سے فارغ ہوگئے
ماضی میں عمران خان کی حکومت سے علیحدگی کے بعد پنجاب، خیبرپختون خواہ اور گلگت میں ان کی حکومت تھی پی ڈی ایم کی شہباز شریف کی قیادت میں بننے والی حکومت صرف اسلام آباد تک میں محصور تھی لیکن یہاں پر بھی عمران خان نےکے پی کے اور پنجاب کی حکومت ختم اور اسمبلیاں تحلیل کراکر اسلام اباد کو آزاد کردیا گو کہ ان کا خٰیال تھا کہ تین ماہ میں ان صوبوں میں انتخابات ہوجائیں گے اور ان کی مقبولیت کے باعث پھر ان کی حکومتیں بن جائیں گیں لیکن ایسا نہیں ہوا اور نہ ہی قومی اسمبلی سے اراکن کے مستعفی ہونے کا کوئی نتیجہ نکلا اور پی ٹی آئی کے ارکان قومی اسمبلی کو دوبارہ اسمبلی آنا پڑا..
اب دیکھنا یہ ہے کہ ضد اور احتجاج کی یہ حکمت عملی تحریک انساف کو کس حد تک کامیابی دلاتی ہے بیرون ملک تحریک انصاف کے سوشل میڈیا وارئیر کا بیانیہ کتنا کامیاب ہوتا ہے اور ان کا دباؤ کس حد تک عمران خان کی رہائی میں مدد گار ہوسکتا ہے بظاہر تو یہ ایک سوچ ہی لگتی ہے نہ اس وقت فوج میں کوئی تقسیم ہے جس کی یقین دھانی فیض حمید نے عمران خان کو کرائی تھی اور نہ ہی اب پی ٹی آئی کے احتجاج میں کوئی عوام کی بری تعداد شامل ہوتے ہوئے نظر آتی ہے قیادت کی اسلام آباد میں کارکنوں کو چھوڑ کر جانے کے بعد تو احتجاج میں شامل ہونے پر کارکنوں پر بڑی محنت کرنا پڑے گی لیکن سوشل میڈیا کا پلیٹ فارم پی ٹی آئی کو مسلسل احتجاج کی جانب دھکیل رہا ہے سوال یہ ہے کہ وہ کچھ کامیابی حاصل کرسکیں گے جس کا فیصلہ وقت کرے گا
یہ پروگرام آپ کو کیسا لگا کمنٹ سیکشن میں جاکر ضرور اپنی رائے دیں