تشویشناک انٹیلی جنس ملنے پر امریکا پاک بھارت کشیدگی میں مداخلت پر مجبور ہوا. امریکی میڈیا

امریکی میڈیا نے انکشاف کیا ہے کہ جمعہ کی صبح امریکا کو ایک تشویشناک انٹیلی جنس موصول ہوئی اس حساس انٹیلی جنس کی وجہ سے امریکا پاک بھارت کشیدگی میں اپنی مداخلت بڑھانے پر مجبور ہوا امریکی صحافی نے اپنی رپورٹ میں لکھا کہ امریکی عہدیداروں نے حساس ہونے کی وجہ سے اس انٹیلی جنس کی نوعیت نہیں بتائی تاہم نائب امریکی صدر جے ڈی وینس نے بھارتی وزیراعظم مودی کو بتایا کہ کشیدگی جاری رہی تو ہفتے کے اختتام پر اس میں شدت آنے کا خدشہ ہے۔رپورٹ میں بتایا گیا کہ امریکی نائب صدر نے مودی پر پاکستان سے براہ راست رابطہ کرنے کے کے لیے زور دیا، وینس نے مودی پر دباؤ ڈالا کہ کشیدگی کم کرنے کے متبادل راستوں پر غور کیا جائے نائب امریکی صدر نے مودی کو ممکنہ متبادل راستے کی ایسی تجویز بھی دی جو پاکستان کے لیے بھی قابل قبول ہوسکتی تھی۔صحافی نے کہا کہ نائب صدر جے ڈی وینس، وزیر خارجہ روبیو اور وائٹ ہاؤس چیف آف اسٹاف پاک بھارت تنازع کو مانیٹر کررہے تھے۔امریکی وزیر خارجہ اور محکمہ خارجہ کے اہلکار رات بھر بھارت اور پاکستان حکام سے رابطے میں رہے۔رپورٹ کے مطابق ٹرمپ انتظامیہ نے معاہدے کا مسودہ تیار کرنے میں کوئی کردار ادا نہیں کیا ٹرمپ انتظامیہ نے دونوں فریقین کو بات چیت پر آمادہ کیا امریکا سمجھتا ہے کہ نائب صدر جے ڈی وینس کا مودی کو فون کرنا اس سارے معاملے میں اہم موڑ تھا۔ٹرمپ انتظامیہ کے عہدیداروں کا کہنا ہے کہ یہ ابھی طے کیا جا رہا ہے کہ جنگ بندی معاہدے کی نگرانی کس طرح کی جائے گی۔

The US was forced to intervene in the Indo-Pakistan tension after receiving worrisome intelligence. US media

اپنا تبصرہ لکھیں