تلخ بحث کے بعد ٹرمپ اور زیلنسکی کی اولین ملاقات

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ویٹی کن میں پوپ فرانسس کی تدفین کے موقع پر اپنے یوکرینی ہم منصب وولودیمیر زیلنسکی سے مختصر ملاقات کی۔ دونوں رہنماؤں نے یوکرین میں جنگ بندی کے حوالے سے گفتگو کی۔غیر ملکی میڈیا کے مطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور یوکرین کے صدر زیلنسکی کے درمیان ویٹیکن باسیلیکا میں ون آن ون ملاقات ہوئی جس دوران دونوں صدور کو ایک کرسی پر بیٹھے گفتگو کرتے دکھایا گیا۔دونوں رہنماؤں کے درمیان وائٹ ہاؤس میں ہونے والی تلخ بحث کے بعد یہ ان کی پہلی ملاقات تھی۔ اس دوران امریکی صدر نے یوکرینی رہنما پر روس کے ساتھ امن معاہدے کے لیے زور دیا۔اس موقع پر صدر زیلنسکی کا کہنا تھا کہ صدر ٹرمپ سے ملاقات تاریخی ثابت ہوسکتی ہے۔ ادھر وائٹ ہاؤس نے بھی ملاقات کو بہت نتیجہ خیز قرار دیا ہے۔صدر زیلنسکی کا کہنا تھا کہ انہوں نے صدر ٹرمپ سے ملاقات میں روس کے ساتھ بغیر کسی شرط کے جنگ بندی کے امکان پر بھی گفتگو کی۔ انہوں نے اسے ایک علامتی ملاقات قرار دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ اس مختصر گفتگو سے امید وابستہ کی جا سکتی ہے۔صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا تھا کہ روسی صدر پیوٹن جنگ بندی نہیں چاہتے۔ امریکی صدر نے ٹروتھ سوشل پلیٹ فارم پر پوسٹ میں لکھا کہ گزشتہ چند دنوں میں یوکرین پر میزائل داغنے کی کوئی وجہ نہیں تھی۔ان کا کہنا تھا کہ حملوں نے سوچنے پر مجبور کردیا کہ پیوٹن یوکرین جنگ نہیں روکنا چاہتے۔اب روس سے پابندیوں کے ذریعے نمٹنا پڑے گا۔

Trump and Zelensky hold first meeting after bitter dispute

اپنا تبصرہ لکھیں