امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے امریکی دورے پر آئے جنوبی افریقی صدر رامافوساسے ملاقات کے دوران ان پر سفید فام شہریوں کی نسل کشی کا الزام لگا دیا۔ملاقات میں صدر ٹرمپ نے دستاویزات جس میں کچھ تصاویر شامل تھیں جنوبی افریقی صدر اور صحافیوں کو ثبوت کے طور پر دکھائیں اور ان سے کہا کہ سفید فام کسان جنوبی افریقا سے بھاگ رہے ہیں۔ ملاقات میں ویڈیو بھی دکھائی گئی۔وائٹ ہاؤس میں جنوبی افریقا کے صدر راما فوسا اور امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے درمیان یہ ایک غیر معمولی ملاقات ہوئی۔ ٹرمپ جنوبی افریقا میں سفید فام افراد کے خلاف تشدد پر بات کرنا چاہتے تھے جبکہ راما فوسا تجارت پر گفتگو کے خواہاں تھے۔اس موقع پر رامافوسا نے ان تصاویر کو جنوبی افریقہ کی درست عکاسی قرار دینے سے انکار کیا اور کہا کہ آئین تمام اقلیتوں کے حقوق کا تحفظ کرتا ہے۔ رامافوسا کا کہنا تھا کہ تشدد کا نشانہ صرف سفید فام نہیں بلکہ تمام طبقات بنتے ہیں، جرائم میں ہلاک ہونے والوں میں اکثریت سیاہ فاموں کی ہے۔ جنوبی افریقہ کے صدر جارحانہ استقبال کی توقع کے ساتھ آئے تھے اور اپنی ٹیم کے ساتھ مقبول سفید فام جنوبی افریقی گالف کھلاڑیوں کو بھی لے کر آئے تھے رامافوسا اس موقع پر گالف کھلاڑی ارنی ایلز، ریٹیف گوسن، اور ارب پتی جوہان روپیرٹ کی طرف اشارہ کر رہے تھے جو سب سفید فام ہیں اور کمرے میں موجود تھے تاہم اس جواب سے ٹرمپ مطمئن نہیں ہوئے اس موقع پر ایک ویڈیو چلائی گئی جو ایک ایسے ٹیلی ویژن پر دکھائی گئی جو عام طور پر اوول آفس میں نصب نہیں ہوتا اس وڈیو میں سفید صلیبیں دکھائی گئیں جنہیں ٹرمپ نے سفید فام لوگوں کی قبریں قرار دیا اور اپوزیشن کے رہنماؤں کو اشتعال انگیز تقاریر کرتے ہوئے دکھایا گیا۔ ٹرمپ نے کہا کہ ان میں سے ایک جولیئس مالیما کو گرفتار کیا جانا چاہیے۔ٹرمپ نے کہاکہ ہمارے پاس بہت سے لوگ ہیں جو محسوس کرتے ہیں کہ انہیں ظلم و ستم کا سامنا ہے، اور وہ امریکا آ رہے ہیں.ملاقات کے دوران جنوبی افریقی صدر رامافوسا نے ٹرمپ کو طنزیہ انداز میں کہا کہ’ معذرت میرے پاس آپ کو دینے کیلئے طیارہ نہیں ہے.جس پر ٹرمپ نے جنوبی افریقی صدر کو جواب دیتے ہوئے کہا کہ کاش آپ ایسا کرتے اگر آپ کے ملک نے امریکی ائیر فورس کو یہ پیشکش کی تو میں ضرور قبول کروں گا۔
