پوپ فرانسس نے اتوار کو اپنی اینجلس دعا میں غزہ کی پٹی پر اسرائیلی حملے فوری طور پر روک دینے اور یرغمالیوں کی رہائی کے لیے مذاکرات کی بحالی اور فیصلہ کن جنگ بندی کا مطالبہ کیا ہے۔غیر ملکی میڈیا کے مطابق انہوں نے اپنی دعا میں لکھا ہے کہ وہ غزہ کی پٹی پر شدید اسرائیلی بمباری کے دوبارہ شروع ہونے پر غمگین ہیں جس میں بہت سی اموات ہوئی ہیں اور بڑی تعداد میں لوگ زخمی ہوئے ہیں۔پوپ فرانسس نے مزید کہا کہ میں درخواست کرتا ہوں کہ فوری طور پر ہتھیاروں کو خاموش کر دیا جائے اور مذاکرات دوبارہ شروع کئے جائیں تاکہ تمام یرغمالیوں کو آزاد کرایا جا سکے اور ایک حتمی جنگ بندی تک پہنچا جا سکے۔روحانی پیشوا کا مزید کہنا تھا کہ غزہ کی پٹی میں انسانی صورتحال ایک بار پھر بہت سنگین ہوچکی ہے اور متحارب فریقوں اور بین الاقوامی برادری کی فوری توجہ کی متقاضی ہے۔واضح رہے کہ 88 سالہ پوپ کو پانچ ہفتوں سے زیادہ عرصے تک ہسپتال میں رہنے کے بعد ڈسچارج کردیا گیا ہے۔پوپ فرانسس 14 فروری سے روم کے گیمیلی ہسپتال میں داخل تھے.پوپ فرانسس کا علاج کرنے والے ڈاکٹروں کے مطابق ڈسچارج کیے جانے کے بعد بھی انہیں ویٹیکن میں دو ماہ آرام کرنا ہوگا۔