امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ وہ کینیڈا اور میکسیکو کے رہنماؤں کے ساتھ ٹیرف کے معاملے پربات کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔ڈونلڈ ٹرمپ کا بیان ایسے وقت آیا ہے، جب وہ کینیڈا، میکسیکو اور چین سے درآمد ہونے والی اشیا پر ٹیرف عائد کرنے کے لیے ایگزیکٹو آرڈر جاری کرچکے ہیں۔نئے ٹیرف اقدامات سے امریکا کے یہ تینوں بڑے تجارتی شراکت دار ممالک متاثر ہوں گے تاہم ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا ہے کہ امریکی مفادات کو مستحکم کرنے کے لیے یہ قیمت ادا کی جاسکتی ہے۔اتوار کو سوشل میڈیا پلیٹ فورم ‘ٹروتھ سوشل’ پر اپنی پوسٹ میں صدر ٹرمپ نے اس بات کا اعتراف کیا کہ ٹیرف کی وجہ سے امریکی صارفین کو عارضی طور پر قیمتوں میں اضافے کا سامنا ہوسکتا ہے۔واضح رہے کہ امریکا کے 2 بڑے تجارتی شراکت داروں میکسیکو اور کینیڈا نے فوری طور پر جوابی محصولات عائد کرنے کا اعلان کیا تھا، جبکہ چین نے کہا تھا کہ وہ ٹرمپ کے اقدام کو عالمی تجارتی تنظیم( ڈبلیو ٹی او) میں چیلنج کرنے کے ساتھ دیگر جوابی اقدامات کرے گا۔کینیڈا کے وزیر اعظم جسٹن ٹروڈو نے جوابی اقدام کے طور پر بیئر، وائن، لکڑی اور برقی آلات سمیت 155 ارب ڈالر کی امریکی مصنوعات پر 25 فیصد ٹیکس عائد کرنے کا اعلان کر دیا تھا.جسٹن ٹروڈو نے امریکی شہریوں کو متنبہ کیا تھا کہ ٹرمپ کے ٹیکسز سے ان کی گروسری اور پٹرول کی قیمتوں میں اضافہ ہوگا. ممکنہ طور پر آٹو اسمبلی پلانٹس بند ہوجائیں گے.میکسیکو کی صدر کلاڈیا شین بام نے ایکس پر ایک پوسٹ میں کہا تھا کہ وہ اپنے وزیر اقتصادیات کو جوابی ٹیکسز کے نفاذ کی ہدایت کر رہی ہیں لیکن انہوں نے اس کی تفصیلات نہیں بتائی تھیں۔