کراچی میں 50 گھنٹے سے زائد کا وقت گزر جانے کے باوجود ملیر، یونیورسٹی روڈ اور ٹیپو سلطان روڈ سمیت مختلف علاقوں میں بجلی بحال نہ کی جاسکی جس پر شہری سراپا احتجاج بن کر سڑکوں پر نکل آئے اور روڈ بند کردیا. 19 اگست کو شہر میں بادل برستے ہی دوپہر تقریبا ڈھائی بجے مختلف علاقوں میں بجلی غائب ہو گئی کئی علاقوں میں تیسرے روز بھی بجلی کا بدترین بحران رہا اور بجلی نہ ہونے کی وجہ سے پانی کی فراہمی بھی بند ہوگئی ہے اور مکینپانی کو بھی ترس گئے ہیں۔شہریوں نے بتایا کہ معین آباد، بوستان سوسائٹی، امیرآباد اور اطراف کے علاقوں میں 50 گھنٹے سے بجلی کی فراہمی معطل ہے کے الیکٹرک کا عملہ شکایتوں کے باوجود کان نہیں دھر رہا ہے.مظاہرین نے مہران ڈپوکے قریب لال بسوں کو بھی روک لیا لیاقت مارکیٹ ملیرکے قریب بھی سڑک پر مظاہرین نے احتجاج کیا اور ٹریفک کی آمدورفت بند کرادی جس کی وجہ سے ملیر ماڈل کالونی اور جناح ایونیو سمیت اندرونی کئی سڑکوں پر بدترین ٹریفک جام ہوگیا.ٹیپو سلطان روڈ پر بھی کے الیکٹرک کے دفتر کے باہر علاقہ مکینوں کی جانب سے احتجاج کیا گیا اور نیپا مین یونیورسٹی روڈ پر بھی بجلی کی طویل بندش کے خلاف علاقہ مکینوں کی جانب سے احتجاج کیا گیا
