یرغمالیوں کی رہائی معطل ہونے پر تل ابیب میں مظاہرے شروع. ہائی وے بند

تل ابیب کے شہریوں نے حماس کی حراست میں موجود تمام یرغمالیوں کی مکمل رہائی اور جنگ بندی کے معاہدے کی تکمیل کا مطالبہ کرتے ہوئے جنوب کی طرف جانے والی ایالون ہائی وے کو بند کر دیا۔ایکس پر ایک پوسٹ میں اسرائیلی شہری کریو نے کہا کہ وہ یرغمالیوں کے اہل خانہ اور ہزاروں اسرائیلیوں کے ساتھ مارچ کر رہے ہیں جو اب وزیر اعظم بنجمن نیتن یاہو کے تکبر، جھوٹ اور سازشوں کو قبول کرنے کے لیے تیار نہیں جو ہمارے بھائیوں اور بہنوں کو چھوڑ چکے ہیں۔اسرائیلی میڈیا کے مطابق مظاہرین اس بات پر زور دے رہے ہیں کہ تمام اسرائیلی یرغمالیوں کی واپسی میں تیزی لانے کے لیے معاہدے کی مدت کو کم کیا جائے کیونکہ رہا ہونے والے آخری 3 افراد کو خراب طبی حالت میں اسرائیل بھیجا گیا تھا۔ اسرائیلی میڈیا کے مطابق پولیس نے یرغمالی متان زنگاؤکر کی والدہ اور حکومت مخالف اہم کارکن عینو زنگاوکر کو زبردستی احتجاج سے ہٹانے کی کوشش کی۔ارد گرد موجود مظاہرین پولیس پر چیختے رہے کہ انہیں اکیلا چھوڑ دو۔تل ابیب میں مظاہرے شروع ہونے کے علاوہ اسرائیلی فوجیوں کی چھٹیاں منسوخ کر دی گئی ہیں، اور غزہ کی پٹی کے ارد گرد اسرائیلی افواج میں اضافہ کیا جا رہا ہے۔حماس نے غزہ سے اسرائیلی قیدیوں کی رہائی کے اگلے مرحلے کو غیر معینہ مدت کے لیے معطل کرتے ہوئے اسرائیل پر جنگ بندی معاہدے کی شرائط کی خلاف ورزی کا الزام عائد کیا تھا جس میں فلسطینیوں کو شہید کرنے اور انسانی امداد کی فراہمی میں رکاوٹ ڈالنا کے الزامات لگائے گئے تھے۔

Demonstrations started in Tel Aviv after the release of the hostages was suspended. Highway closed

اپنا تبصرہ لکھیں