اٹلی کے ویسویئس آتش فشاں کے پھٹنے سے ہونے والی ایک نوجوان کی موت کے تقریباً 2000 سال بعد سائنسدانوں نے دریافت کیا ہے کہ نوجوان کادماغ آتش فشاں کی راکھ میں محفوظ تو رہا مگر یہ شیشے میں تبدیل ہو گیا جو ایک معمہ ہے .مٹر کے سائز کے سیاہ رنگت والا شیشے کا یہ ٹکڑا متاثرہ شخص کی کھوپڑی کے اندر سے ملا ہے ا جس کی عمر تقریباً 20 سال تھی۔ اس نوجوان کی ہلاکت 79 عیسوی میں اٹلی کے شہر نیپلز کے قریب آتش فشاں کے پھٹنے کی وجہ سے ہوئی تھی سائنس دانوں کا ماننا ہے کہ 510 سینٹی گریڈ تک گرم آتش فشاں کی راکھ نے دماغ کو اپنے اندر محفوظ کر لیا اور پھر بہت تیزی سے یہ راکھ ٹھنڈی ہو گئی جس کی وجہ سے یہ انسانی دماغ شیشے میں تبدیل ہو گیا۔محققین نے یہ دماغ 2020 میں دریافت کیا تھا اور انھوں نے یہ اندازہ لگایا کہ یہ ایک فوسلائزڈ برین یعنی پتھر میں تبدیل ہو جانے والا دماغ تھا لیکن وہ یہ نہیں جانتے تھے کہ ایک انسانی دماغ آخر شیشے میں تبدیل کیسے ہوا۔یہ انسانی ٹشوز یا کسی بھی نامیاتی مواد کے قدرتی طور پر شیشے میں تبدیل ہونے والا واحد کیس ہے .یہ دماغ ایک ایسے فرد کا تھا کہ جو رومن شہر ہرکولینیم کی مرکزی سڑک پر واقع کولیجیم نامی عمارت کے اندر بستر پر ہلاک ہوا تھا ۔جب ویسوویئس کا آتش فشان پھٹا تو اس نے ہرکولینیم اور قریبی پومپئی نامی علاقوں کو اپنی لپیٹ میں لے لیا یہ وہ مقامات تھے کہ جہاں کی آبادی 20 ہزار کے لگ بھگ تھی۔ تاہم یہاں سے تقریباً 1500 افراد کی باقیات ملی ہیں.ماہرین کا ماننا ہے کہ آتش فشاں سے نکلنے والی راکھ نے انسان کے دماغ کو شیشے میں تبدیل کر دیا کیونکہ لاوے کا درجہ حرارت اس قدر زیادہ ہوتا ہے کہ وہ اتنی جلدی یا تیزی سے ٹھنڈا نہیں ہوسکتا۔شیشہ بننے کے عمل میں بہت مخصوص درجہ حرارت کے حالات کی ضرورت ہوتی ہے اور قدرتی طور پر ایسا شاذ و نادر ہی ہوتا ہے۔محققین کی ٹیم نے ایکس رے اور الیکٹرون مائیکروسکوپی کی مدد سے یہ نتیجہ اخذ کیا کہ دماغ کے تیزی سے ٹھنڈا ہونے سے قبل اس کا کم از کم درجہ حرارت 510 سینٹی گریڈ تک پہنچا ہوگا جس کے بعد اس کی شکل شیشے کے ایک ٹُکڑے میں تبدیل ہوئی۔دیگر نرم ٹشوز اور اعضا ممکنہ طور پر لاوے کی گرمی کی وجہ سے شیشے میں تبدیل ہونے سے قبل ہی جل کر خاک ہو گئے۔