کیتھولک مسیحیوں کے روحانی پیشوا آنجہانی پوپ فرانسس کی آخری رسومات ہفتے کو ادا کی جائیں گی جن میں امریکی ڈونلڈ ٹرمپ اور خاتون اول کے علاوہ کئی ممالک کے سربراہان مملکت شرکت کریں گے۔ویٹی کن نے ایک بیان میں کہا ہے کہ پوپ فرانسس کی آخری رسومات ہفتہ 26 اپریل کو صبح 10 بجے سینٹ پیٹرز بیسلیکا میں ادا کی جائیں گی۔غیر ملکی میڈیا کے مطابق پوپ فرانسس کے آبائی ملک ارجنٹائن کے صدر جیویئر ملی، برازیل کے صدر لوئیز اناسیو ڈی سلوا اور یوکرین کے صدر ولادیمیر زیلنسکی بھی پوپ کی آخری رسومات میں شرکت کریں گے۔ویٹیکن نے اعلان کیا ہے کہ پوپ فرانسس کا تابوت کارڈینلز کے ہمراہ ایک جلوس کی شکل میں بدھ کی صبح 9 بجے پوپ کی رہائش گاہ سانتا مارٹا کے چیپل سے سینٹ پیٹر بیسلیکا منتقل کیا جائے گا۔پوپ کے انتقال پر صدیوں سے چلتی آرہی رسموں کا آغاز کیا جاتاہے جس میں سب سے پہلے پوپ کے انتقال کی اطلاع کیمر لنگو کو دی جاتی ہے ، وہ پوپ کے جسم کے قریب کھڑے ہو کر تین بار نام لے کر پوپ کو پکارتے ہیں اور اگر پوپ جواب نہیں دیتے تو انہیں مردہ قرار دیدیا جاتاہے اس کے بعد کارڈنلز کو اطلاع دی جاتی ہے اور پھر پوپ کے رہائشی کمرے بند کر دیئے جاتے ہیں۔ رسم کا ایک حصہ پوپ کی انگوٹھی کو توڑنا ہوتاہے کیونکہ یہ انگوٹھی پوپ کی طاقت کی علامت ہوتی ہے جس کا ٹوٹنا ان کے دور کے اختتام کی نشاندہی کرتا ہے روایتی طور پر پوپ کو تین تابوتوں میں دفن کیا جاتا ہے جن میں سائپرس ، سیسے اور بلوط کی لکڑی شامل ہے لیکن پوپ فرانسس نے ایک سادہ لکڑی کا انتخاب کیا اور ویٹکن سٹی سے باہر دفنانے کی وصیت کی اور وہ ایک صدی سے زائد عرصے کے دوران پہلے پوپ ہیں جنہیں ویٹیکن سے باہر دفنایا جائے گا ۔
