ائیر انڈیا کو فصائی بندش سے 50ارب روپےتک نقصان کا خدشہ . حکومت سے امداد مانگ لی

بھارتی ایئر لائن ایئر انڈیا کو خدشہ ہے کہ پاکستانی فضائی حدود کی بندش ایک سال تک جاری رہی تو اسے 600 ملین ڈالر تک کے اضافی اخراجات کا سامنا کرنا پڑے گا۔ اس نے اس ممکنہ نقصان کی تلافی کے لیے مودی حکومت کو خط لکھ دیا.ایئرانڈیاکی جانب سےکہا گیا ہے کہ پابندی ایک سال تک برقراررہی تو50ارب روپےکانقصان ہوگا پاکستانی فضائی حدودکھلنےتک ایئرلائن کومعاشی امدادملنی چاہیے واضح رہے کہ بائیس اپریل کو بھارت کے زیر انتظام کشمیر میں سیاحوں پر حملے کے بعد نئی دہلی نے پاکستان کے خلاف کئی اقدامات کا اعلان کیا تھا۔ جوابی کارروائی میں پاکستان نے اپنی فضائی حدود سے بھارتی پروازوں کے گزرنے پر پابندی لگا دی تھی۔ اس سے بھارتی ایئر لائنز کو ایندھن کے لیے زیادہ رقوم خرچ کرنا پڑ رہی ہیں اور سفر کا دورانیہ بھی بڑھ گیا ہے۔غیرملکی میڈیا کے مطابق ایئر انڈیا کی جانب سے 27 اپریل کو یہ خط بھارت کی وزارت برائے شہری ہوا بازی کو بھیجا گیا۔ اس میں بھارتی حکومت سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ خسارے کے ازالے کے لیے اقتصادی نقصان کے تناسب سے ایک سبسڈی ماڈل اپنایا جائے۔ایئر انڈیا، جو اب ٹاٹا گروپ کی ملکیت ہے سرکاری دور کے بعد اربوں ڈالر کی سرمایہ کاری کے ساتھ اپنی بحالی کے عمل سے گزر رہی ہے تاہم بوئنگ اور ایئربس کی جانب سے جیٹ طیاروں کی فراہمی میں تاخیر کے باعث اس کی ترقی کی رفتار سست ہے۔مالی سال 24-2023 میں کمپنی کو 520 ملین ڈالر کا خسارہ ہوا

Air India fears loss of up to Rs 50 billion due to seasonal shutdown. Seeks government assistance

اپنا تبصرہ لکھیں