اسرائیل پر ایرانی حملے میں پہلی بار تھرڈ جنریشن خیبر شکن میزائلوں کا استعمال

اسرائیل پر ایرانی کی جانب سے کیے جانے والے حملے میں تھرڈجنریشن خیبرشکن میزائل استعمال کیے گئے ہیں۔پاسداران انقلاب کے مطابق یہ میزائل مہلک ترین اور فضاؤں میں ہدف تک چکمہ دینے کی صلاحیت رکھتا ہے.پاسداران انقلاب کا بتانا ہے کہ اس حملے میں میزائل پہلے گرےسائرن بعد میں بجے ابھی مزید خطرناک میزائل استعمال ہونا باقی ہیں، اسرائیل پر 40 میزائل داغے ہیں۔خیبر شکن میزائل جو خرمشہر میزائل فیملی کی تازہ ترین نسل ہے 2 ہزار کلومیٹر تک مار کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے اسے اس طرح ڈیزائن کیا گیا ہے کہ یہ بغیر کسی پیچیدہ لانچر کے گہرائی میں موجود اسٹریٹجک اہداف کو نشانہ بنا سکتا ہے جو کسی بھی پیشگی حملے یا جوابی کارروائی میں اسے ایک اہم ہتھیار بناتا ہے۔ایرانی میڈیا کی رپورٹ کے مطابق خیبر شکن میزائل 4 ٹن 500کلو گرام وزنی اورساڑھے10 میٹر لمبا ہے اس میزائل کا قطر 80 سینٹی میٹر، وارہیڈ کا وزن 500 کلوگرام ہے ٹھوس ایندھن سے چلنے والا خیبر شکن میزائل 1 ہزار 450 کلو میٹر تک مار کرسکتا ہے۔پاسداران انقلاب نے کہا ہے کہ حالیہ میزائل حملوں میں اسرائیل کے بن گوریون بین الاقوامی ہوائی اڈے کو نشانہ بنایا گیا ساتھ ہی حیتیاتی تحقیقی مرکز اہم معاون اڈوں، اور مختلف سطحوں پر موجود کمانڈ اینڈ کنٹرول سینٹرز پر بھی حملے کیے گئے۔

Third-generation Khyber anti-aircraft missiles used for the first time in Iranian attack on Israel

اپنا تبصرہ لکھیں