امریکا کی جانب سے چین پر 104 فیصد ٹیرف نافذچین کی اسٹاک مارکیٹوں میں مندی

غیر ملکی خبر ایجنسی کے مطابق چینی ٹیرف کے جواب پر امریکی صدر کی جانب سے چین پر عائد کردہ 104 فیصد ٹیرف آج سے نافذ العمل ہوگیا ہے۔ ترجمان وائٹ ہاوس کیرولین لیویٹ کے مطابق چین کا ٹیرف پر جوابی کارروائی کرنا غلطی تھی چین امریکہ کیساتھ معاہدہ چاہتاہےلیکن یہ نہیں جانتا کیسے کرنا ہے معاہدے کے لیے چین کا انتظار کر رہے ہیں چینی مصنوعات پر 104 فیصد ٹیکس لاگو کیے جانے کے بعد چین اور ہانگ کانگ کی مارکیٹوں میں ایک بار پھر مندی کا رجحان دیکھنے میں آ رہا ہے۔امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے 2 اپریل کو چین پر 34 فیصد باہمی ٹیرف کا اعلان کیا تھا، چین کی جانب سے امریکا پر جوابی 34 فیصد ٹیرف عائد کیا گیا جبکہ ڈونلڈ ٹرمپ نے چین سے ٹیرف واپس نہ لینے پر اضافی 50 فیصد محصولات کی دھمکی دی تھی۔غیر ملکی خبر ایجنسی کے مطابق چینی ٹیرف کے جواب پر امریکی صدر کی جانب سے چین پر عائد کردہ 104 فیصد ٹیرف آج سے نافذ العمل ہوگیا ہے۔ ترجمان وائٹ ہاوس کیرولین لیویٹ کا کہناتھا کہ چین معاہدہ کرے تو صدر ٹرمپ ناقابل یقین حد تک مہربان ہوں گے صدرٹرمپ نے بیجنگ کومنگل تک امریکی سامان پرجوابی ڈیوٹی ختم کرنےکی ڈیڈلائن دی تھی صدرٹرمپ نے ڈیوٹی ختم نہ کرنے پر چین پر ٹیرف میں مزید 50 فیصد نافذ کردیا امریکا کی جانب سے چند چینی مصنوعات پر ٹیرف 100 فیصد سے بھی بڑھائَے جانے کے بعد بدھ کے روز کاروبار کے آغاز پر چین کی شنگھائی کمپوزٹ انڈیکس میں 1.8 فیصد کمی دیکھنے میں آئی جبکہ ہانگ کانگ کی ہانگ سانگ میں 2.8 فیصد کی کمی ریکارڈ کی گئی۔تاہم کئی روز کی مندی کے بعد منگل کے روز شنگھائی سمیت ایشیا کی کئی ا سٹاک مارکیٹوں میں قدرے بہتری نظر آئی تھی۔

US imposes 104% tariff on China, Chinese stock markets plunge

اپنا تبصرہ لکھیں