امریکا اور چین کے درمیان جاری تجارتی جنگ مزید شدت اختیار کرگئی ٹرمپ انتظامیہ نے کہا ہے کہ چین کو اب 245 فیصد تک نئے محصولات کا سامنا کرنا پڑے گا۔وائٹ ہاؤس کی جانب سے جاری کر دہ بیان کے مطابق دنیا کے 75 ممالک نے ٹیرف کے معاملے پر امریکہ سے مذاکرات کے لیے رابطہ کیا ہےلیکن چین نے مذاکرات کے بجائے جوابی کارروائی کو ترجیح دی چین نے ہمارے لیے کوئی اور راستہ نہیں چھوڑا . بیان میں کہا گیا کہ اس ٹیرف میں 125 فیصد جوابی ٹیرف، منشیات کے بحران سے نمٹنے کے لیے 20 فیصد ٹیرف اور منتخب اشیا پر 7.5 فیصد سے 100 فیصد کے درمیان ٹیرف شامل ہے۔ نئے ایگزیکٹو آرڈر کا مقصد امریکی صنعت، ٹیکنالوجی، اور قومی سلامتی کو تحفظ دینا ہے۔وائٹ ہاؤس کی جانب سے منگل کو رات گئے ایک انتظامی حکم جاری کیا گیا جس کے تحت اہم وسائل کی درآمدات کی قومی سلامتی کے حوالے سے تحقیقات شروع کی گئی ہیں بیان میں مزید کہا گیا کہ کچھ ماہ قبل چین نے امریکا کو گیلیم، جرمانیم، اینٹمونی اور دیگر کلیدی ہائی ٹیک دھاتوں کی برآمد پر پابندی عائد کر دی تھی جن کے فوجی استعمال کے امکانات تھے۔وائٹ ہاؤس کے مطابق رواں ہفتے چین نے 6 ہیوی ریئر ارتھ میٹلز اور ریئر ارتھ میگنیٹس کی برآمدات بھی معطل کر دی ہیں۔