امریکہ نے چینی ساختہ اور چینی کمپنیوں کے بحری جہازوں کے لیے نئی بندرگاہ فیس متعارف کرادی .امریکی تجارتی نمائندے جیمیسن گریر نے نئی فیسوں کا اعلان کرتے ہوئے ایک بیان میں کہا کہ بحری جہاز اور ترسیل امریکی اقتصادی سلامتی اور تجارت کے آزادانہ بہاؤ کے لیے اہم ہیں جن میں سے بیشتر اکتوبر کے وسط میں شروع ہوں گی۔چین سے چلنے والے بحری جہازوں اور چینی ساختہ بحری جہازوں کے لیے الگ الگ فیسیں ہوں گی اور دونوں فیسوں میں آنے والے سالوں میں بتدریج اضافہ کیا جائے گا۔گریر نے کہا کہ ’ٹرمپ انتظامیہ کے اقدامات چینی تسلط کو تبدیل کرنا شروع کر دیں گے، امریکی سپلائی چین کو درپیش خطرات کو دور کریں گے اور امریکی ساختہ جہازوں کے لیے ڈیمانڈ سگنل بھیجیں گے۔نئی پالیسی کے تحت مائع قدرتی گیس لانے لے جانے والے بحری جہازوں پر بھی نئی فیسیں متعارف کرائی گئی ہیں تاہم ان کا اطلاق تین سال بعد ہو گا۔یہ اقدام جو سابقہ انتظامیہ کے تحت شروع کی گئی تحقیقات کا نتیجہ ہے ایسے وقت سامنے آیا جب امریکہ اور چین صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے محصولات پر ایک بڑی تجارتی جنگ میں ملوث ہیں اور نئی پورٹ فیس کا معاملہ دونوں ملکوں کے درمیان کشیدگی کو مزید بڑھا سکتا ہے