امریکی حکومت نے کرپٹو چوری کا الزام شمالی کوریا پر لگا دیا

امریکی فیڈرل بیورو آف انویسٹی گیشن نے گزشتہ ہفتے ہونے والی 1.5 ارب ڈالرز کی تاریخی ڈیجیٹل ڈکیتی کا الزام شمالی کوریا پر عائد کر دیا۔واضح رہے کہ دبئی میں قائم کرپٹو کرنسی ایکسچینج بائی بٹ نے گزشتہ ہفتے 1 ارب 20 کروڑ پاؤنڈ کے 4 لاکھ کرپٹو کرنسی ایتھریم چوری ہونے کی اطلاع دی اور سائبر سیکیورٹی کے ماہرین سے چوری کی گئی کرپٹو کرنسی کی واپسی میں مدد کی اپیل بھی کی۔غیر ملکی میڈیا کے مطابق امریکی حکومت نے تاریخ کی سب سے بڑی چوری کا الزام شمالی کوریا پر عائد کر دیا ہے۔امریکی ایف بی آئی کہنا ہے کہ کرپٹو کرنسی ایکسچینج بائی بٹ کے 1.5 ارب ڈالرز کے ورچوئل اثاثوں کی چوری کا ذمے دار شمالی کوریا ہے .ایف بی آئی کے مطابق شمالی کوریا کا ٹریڈر ٹریٹر نامی گروپ جسے لازارس گروپ بھی کہا جاتا ہے اس چوری میں ملوث ہے اور تیزی سے چوری شدہ ورچوئل اثاثوں کو بٹ کوائن اور دیگر ورچوئل کرنسی میں تبدیل کر کے مختلف بلاک چینز کے ناقابلِ شناخت پتوں پر منتقل کر رہا ہے۔اس سے قبل یہ گروپ مبینہ طور پر 2022ء میں رونن نیٹ ورک سے 620 ملین ایتھریم کی ہونے والی سب سے بڑی کرپٹو کرنسی کی چوری میں بھی ملوث رہا تھا۔

US government blames North Korea for crypto theft.

اپنا تبصرہ لکھیں