امریکی سپریم کورٹ کا وینزویلا کے تارکین وطن کی ملک بدری عارضی روکنے کا حکم

امریکی سپریم کورٹ نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ کو امیگریشن کی تحویل میں وینزویلا کے مردوں کو ملک بدر کرنے سے عارضی طور پر روک دیا۔ججوں نے ایک مختصر فیصلے میں کہا کہ حکومت کو ہدایت کی جاتی ہے کہ اس عدالت کے اگلے حکم تک وینزویلا کے کسی بھی زیر حراست شخص کو امریکا سے نہ نکالا جائے۔غیر ملکی میڈیا کی رپورٹ کے مطابق وکلا کی جانب سے کہا گیا کہ انہیں ججوں کے ذریعہ پہلے سے لازمی عدالتی جائزے کے بغیر نکالے جانے کا خطرہ ہے جس پر عدالت نے یہ فیصلہ سنایا۔قدامت پسند جسٹس کلیرنس تھامس اور سیموئل الیٹو نے جاری کیے گئے فیصلے سے اختلاف کیا۔اس کیس میں امریکن سول لبرٹیز یونین کے لیڈ اٹارنی اور لی گیلرنٹ نے ایک بیان میں کہا کہ یہ لوگ ایک خوفناک غیر ملکی جیل میں اپنی زندگی گزارنے کے خطرے میں ہیں اور انہیں کبھی بھی عدالت جانے کا موقع نہیں ملا ہمیں خوشی ہے کہ سپریم کورٹ نے انتظامیہ کو ان لوگوں کو اس طرح ملک بدر کرنے کی اجازت نہیں دی۔وائٹ ہاؤس نے فوری طور پر تبصرہ کی درخواست کا جواب نہیں دیا۔تاہم قبل ازیں امریکی صدر اور ان کے سینئر معاونین نے زور دے کر کہا کہ ان کی ایگزیکٹو پاور انہیں امیگریشن کے معاملات پر وسیع اختیارات فراہم کرتی ہے۔

US Supreme Court orders temporary halt to deportation of Venezuelan immigrants

اپنا تبصرہ لکھیں