امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے قومی سلامتی کے مشیر مائیک والٹز کو عہدے سے ہٹا دیا اور ان کی جگہ وزیر خارجہ مارکو روبیو کو عبوری مشیر مقرر کردیا. صدر ٹرمپ نے سوشل میڈیا پر اپنے ایک پیغام میں والٹز کی خدمات کا شکریہ ادا کیا اور بتایا کہ ان کی جگہ وقتی طور پر وزیر خارجہ مارکو روبیو کو قومی سلامتی کے مشیر کا اضافی چارج دیا گیا ہے جو بدستور امریکا کے اعلیٰ ترین سفارتکار کے طور پر کام کرتے رہیں گے۔امریکی صدر ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا کی اپنی پوسٹ میں لکھا کہ وہ والٹز کو اقوام متحدہ میں اگلے امریکی سفیر کے طور پر نامزد کریں گے انہوں نے ہماری قوم کے مفادات کو پہلے رکھنے کے لیے سخت محنت کی ہے۔مائیک والٹز قومی سلامتی کے مشیر کے طور پر خدمات انجام دے رہے تھے انہوں نے عہدے سے استعفیٰ دے دیا ہے۔واضح رہے کہ یمن حملوں کی منصوبہ بندی سوشل میڈیا پر لیک ہونے کے اسکینڈل پر مائیک والٹز کو سخت تنقید کا سامنا تھا۔س سے قبل رپورٹ سامنے آرہی تھیں کہ مائیک والٹز جلد عہدے سے مستعفیٰ ہوجائیں گے۔وائٹ ہاؤس کے ذرائع کا کہنا تھا کہ مائیک والٹز کے نائب الیکس وونگ بھی استعفیٰ دیں گے۔ واضح رہے کہ امریکی وزیر خارجہ مارکوروبیو ہنری کسینجر کے بعد 1970 کی دہائی میں پہلی بار وزیر خارجہ اور قومی سلامتی کے مشیر کے عہدے کو بیک وقت سنبھالنے والے پہلے شخص ہوں گے۔
