ایران کے شہر بندرعباس کی شاہدرا رجائی پورٹ پر دھماکے کے بعد لگی آگ پر جزوی قابو پالیا گیا۔ دھماکے میں جاں بحق افراد کی تعداد 40 ہوگئی، جبکہ 1200 افراد زخمی ہیں۔تازہ ترین سرکاری اعداد و شمار کے مطابق بندرگاہ پر آگ لگنے اور دھماکے کے باعث اب تک 1205 افراد کو طبی مراکز میں داخل کرایا گیا، جن میں 900 سے زائد کو علاج کے بعد گھر بھیج دیا گیا، سیکڑوں مریض اب بھی زیر علاج ہیں، جن میں 3 درجن کے قریب شہریوں کی حالت نازک ہے۔ایرانی حکومت نے اس سانحے پر ملک بھر میں تین روزہ سوگ کا اعلان کیا ہے۔صدر مسعود پزشکیان اور سپریم لیڈر آیت اللہ خامنہ ای نے دھماکے کی تحقیقات کا حکم دے دیا ہے۔ابتدائی طور پر ہولناک دھماکا کنٹینر یارڈ میں ہوا جس کی وجہ آتش گیر مادہ ذخیرہ کرنے میں غفلت قرار دی گئی۔ایرانی وزارت دفاع نے پورٹ پر فوجی سازو سامان کی موجودگی کی بین الاقوامی میڈیا کی خبروں کو مسترد کر دیا ہے۔ تاہم ذرائع کا کہنا ہے کہ دھوئیں کے رنگ سے معلومہوتا ہے کہ میزائل ایندھن والے کیمیکل میں آگ لگی ہے.رپورٹ کے مطابق آگ ایک کنٹینر سے دوسرے کنٹینر میں لگی جس کے بعد پھیل گئی.ایران کے ایک رکن پارلیمنٹ نے اسرائیل پر بندر عباس کی شاہد رجائی بندرگاہ پر ہونے والے مہلک دھماکے کی منصوبہ بندی کرنے کا الزام عائد کیا ہے۔رکن پارلیمنٹ محمد سراج نے کہا کہ دھماکا خیز مواد کنٹینرز میں پہلے سے نصب تھا اور ممکنہ طور پر سیٹلائٹ یا ٹائمر کے ذریعے ریموٹ کے ذریعے دھماکا کیا گیا ہے۔ایرانی میڈیا کے مطابق دھماکے کے 30 گھنٹے گزرنے کے بعد بندرگاہ کے کچھ حصوں میں دوبارہ آگ بھڑک اٹھنے کی اطلاعات ہیں .دوسری جانب روس نے ایران کو مدد کی پیشکش کرتے ہوئے روسی طیارے ایران بھیج دیئے ہیں۔
