آج کی جنگیں صرف میزائلوں اور ٹینکوں سے نہیں لڑی جا رہیں بلکہ ایک نئی طاقت میدان میں آ چکی ہے جسے مصنوعی ذہانت یا اے آئی کہا جاتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ جدید تنازعات میں جنگ کا انداز تیزی سے بدل رہا ہے اور فیصلوں کی رفتار پہلے سے کہیں زیادہ ہو گئی ہے۔ایران کے خلاف ہونے والی کارروائی جسے آپریشن ایپک فیوری کہا جا رہا ہے اس مہم میں جدید خودکار نظاموں نے سیٹلائٹ تصاویر، ڈرون نگرانی اور خفیہ معلومات کو ایک ساتھ جمع کر کے چند لمحوں میں ہزاروں ممکنہ اہداف کاتجزیہ کیا۔ اس طرح فوجی منصوبہ بندی پہلے کے مقابلے میں بہت تیزی سے مکمل ہوئی اور میدان جنگ میں فیصلوں کا وقت کم ہو گیا۔لیکن اے آئی کے جنگوں میں استعمال سے بظاہر حملوں کے اہداف فوجی کما نڈروں کے بجائے اے آئی کمانڈروں کے پاس چلا گیا ہے جس سے المناک سانحات کا خدشہ بھی بڑھ رہا ہے اے آئی کمانڈر کو رتجزیاتی معلومات میں ذرا سا بھی غلطی یا پرانی معلومات کی فراہمی اہداف کو المناک بناسکتی ہے جیسا کہ ایران میں کمسن بچیوں کے اسکول پر امریکی ٹوماہاک کروز میزائل کاحملہ جس میں اسکول کی طالبات اور اساتذہ کی شہادت ہوئی امریکی ابتدائی تحقیقات میں بتایا گیا کہ شاید حملے میں پرانی معلومات کا استعمال ہوا ہے . اس واقعہ نے جنگوں میں اے آئی کے استعمال پر ایک تنازع پیدا کردیا ہے .
اٹھائیس فروری کی صبح ایران کے جنوب مشرق میں بندر عباس کے میناب نامی قصبے میں عام دنوں کی طرح شروع ہوئی۔ لڑکیوں کے ایلمینٹری اسکول شجرۂ طیبہ میں صبح کی اسمبلی ختم ہو چکی تھی۔ چھوٹی طالبات اپنی جماعتوں میں بیٹھ چکی تھیں۔ کہیں حروف کی مشق ہو رہی تھی. کہیں اساتذہ سبق سمجھا رہی تھیں اور کہیں بچیاں وقفے کا انتظار کر رہی تھیں۔ کسی کو اندازہ نہیں تھا کہ چند لمحوں بعد یہ پرسکون منظر ایک خوفناک سانحے میں بدلنے والا ہے۔اچانک آسمان میں زور دار گرج سنائی دی۔ چند ہی لمحوں بعد ایک زوردار دھماکے نے پورے علاقے کو ہلا کر رکھ دیا۔ اسکول کی عمارت پر حملے نے دیواروں اور کھڑکیوں کو توڑ دیا۔ گرد و غبار ہر طرف پھیل گیا اور اسکول ملبے میں بدل گیا۔ایرانی ذرائع ابلاغ کے مطابق اس حملے میں مجموعی طور پر ایک سو اسی افراد جان سے گئے۔ مرنے والوں میں اکثریت اسی اسکول کی طالبات کی تھی جن کی عمریں سات سے بارہ سال کے درمیان تھی جبکہ کئی اساتذہ بھی اس سانحے کا شکار ہوئیں۔ امدادی کارکن جب موقع پر پہنچے تو منظر انتہائی دل دہلا دینے والا تھا۔ چھوٹے بستے ملبے میں بکھرے ہوئے تھے. کتابیں اور کاپیاں گرد میں لپٹی ہوئی تھیں بچے زخموں سے کراہ رہے تھے . اور وہاں ایک قیامت صغریٰ کا منظر تھا اس سانحے میں ایک سو اسی جانیں ہدف کے تعین میں ذرا سی غلطی کا شکار ہوگئیں .
یہ واقعہ اس بڑی جنگ کے پہلے ہی دن پیش آیا جس نے پوری دنیا کو ہلا کر رکھ دیا۔ اسی واقعے کے بعد ایک اہم سوال دنیا بھر میں اٹھا کہ آخر ایک اسکول کو جنگی ہدف کیوں سمجھا گیا۔ کیا یہ انٹیلی جنس معلومات کی غلطی تھی یا کسی خودکار نظام کی نشاندہی میں خامی. اسکول پر حملے پر صدر ڈولڈ ٹرمپ نے الٹا الزام ایران پر عائد کردیا . واقعے کے بعد ایئر فورس ون میں سوار صحافیوں سے بات کرتے ہوئے ٹرمپ نے کہا کہ ہمارا خیال ہے کہ یہ ایران نے کیا ہے۔ کیونکہ وہ اپنے گولہ بارود کے استعمال میں غیرذمہ دار ہے. جیسا کہ آپ جانتے ہیں۔ ان کے ہاں بالکل بھی درستگی نہیں ہے۔ نیویارک ٹائمز کی جانب سے ایرانی خبر رساں ایجنسی مہر نیوز کی اپ لوڈ کردہ ویڈیو کی تصدیق کے بعد ٹرمپ پر دباؤ بڑھ گیا ہے۔ اس ویڈیو میں ایک امریکی ٹوماہاک کروز میزائل کو عمارت سے ٹکراتے ہوئے دکھایا گیا تھا۔ اخبار کے مطابق اس جنگ میں ٹوماہاک استعمال کرنے والی واحد فوج امریکہ کی ہے۔اب امریکہ کا کہنا ہے کہ واقعے کی تحقیات کی جارہی ہیں ہوسکتا ہے کہ پرانی معلومات کی وجہ سے ہدف کے تعین میں کوئی غلطی ہوئی ہو .تجزیہ کاروں نے یہ امکان ظاہر کیا کہ ہدف کی نشاندہی میں مصنوعی ذہانت کے تجزیے یا انٹیلی جنس معلومات میں غلطی بھی شامل ہو سکتی ہے۔ یہ واقعہ اس لئے اہم سمجھا جا رہا ہے کیونکہ جدید جنگوں میں اب اہداف کی نشاندہی صرف انسان نہیں کرتے بلکہ خودکار نظام بھی اس عمل میں شامل ہو چکے ہیں۔ ایران، اسرائیل اور امریکہ کے درمیان جاری کشیدگی میں مصنوعی ذہانت کا استعمال نگرانی، معلومات کے تجزیے اور ممکنہ اہداف کی نشاندہی کے لئے کیا جا رہا ہے۔
دوسری جانب ایران بھی مصنوعی ذہانت استعمال کر رہا ہے۔ ایران بھی اسی لیے اپنی فوجی حکمت عملی میں مصنوعی ذہانت کو شامل کر رہا ہے تاکہ وہ اپنے دفاع کو مضبوط بنا سکے اور اپنے مخالفین کا مقابلہ کر سکے۔ایران نے خاص طور پر ڈرون طیاروں کے نظام کو مزید مؤثر بنانے کے لیے مصنوعی ذہانت پر کام کیا ہے۔ ایران کے معروف حملہ آور ڈرون شاہد 136 کی مثال دی جاتی ہے جسے طویل فاصلے تک بھیجا جا سکتا ہے اور اسے ہدف تلاش کرنے اور اس تک پہنچنے کے لیے زیادہ خودکار صلاحیتوں کے ساتھ تیار کیا جا رہا ہے۔ماہرین کے مطابق ایران ایک اور اہم ٹیکنالوجی پر بھی کام کر رہا ہے جس میں ایک ہی وقت میں کئی ڈرون فضا میں پرواز کرتے ہیں اور آپس میں رابطہ رکھتے ہوئے ایک مشترکہ حکمت عملی کے تحت ہدف کی طرف بڑھتے ہیں اس تمام پیش رفت سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ جدید جنگ میں صرف روایتی ہتھیار ہی فیصلہ کن نہیں رہ گئے بلکہ مصنوعی ذہانت بھی ایک بڑی طاقت بن چکی ہے ۔ ایران بھی اسی لیے اپنی فوجی حکمت عملی میں مصنوعی ذہانت کو شامل کر رہا ہے تاکہ وہ اپنے دفاع کو مضبوط بنا سکے اور اپنے مخالفین کا مقابلہ کر سکے۔
جدید جنگ میں سب سے پہلے نگرانی کا مرحلہ آتا ہے۔ سیٹلائیٹ ، ڈرون طیاروں اور خفیہ نگرانی کے آلات سے مسلسل تصاویر اور ویڈیوز حاصل ہوتی رہتی ہیں۔ ان تصاویر کی تعداد اتنی زیادہ ہوتی ہے کہ انسانی ماہرین کے لئے ہر تصویر کا تفصیلی جائزہ لینا مشکل ہو جاتا ہے۔ اسی لئے مصنوعی ذہانت کے پروگرام استعمال کئے جاتے ہیں جو چند لمحوں میں ہزاروں تصاویر کو دیکھ کر یہ اندازہ لگانے کی کوشش کرتے ہیں کہ کہاں فوجی سرگرمی ہو سکتی ہے۔یہی وہ مرحلہ ہے جہاں غلطی کا خطرہ بھی پیدا ہوتا ہے۔ اگر کسی عمارت کے بارے میں پرانی معلومات موجود ہوں یا تصاویر کی تشریح غلط ہو جائے تو مصنوعی ذہانت اسے فوجی ہدف سمجھ سکتی ہے۔ ماہرین کہتے ہیں کہ اگر کسی اسکول، اسپتال یا رہائشی عمارت کے قریب فوجی گاڑی یا اسلحہ موجود ہو تو بعض اوقات اے آئی نظام اسے مکمل فوجی مرکز تصور کر لیتا ہے۔
یہاں سے جدید جنگ کے ایک نئے پہلو کی طرف بحث مڑتی ہے اور وہ ہے جنگوں کی منصوبہ بندی ،اہداف کا تعین اور حملے کے وقت میں مصنوعی ذہانت کا استعمال۔آج کی جنگوں میں اہداف کی نشاندہی صرف انسان نہیں کرتے بلکہ کمپیوٹر کے خودکار تجزیاتی نظام بھی اس عمل میں شامل ہوتے ہیں۔ سیٹلائیٹ اور ڈرون طیاروں سے حاصل ہونے والی ہزاروں تصاویر کو مصنوعی ذہانت کے ذریعے چند لمحوں میں جانچا جاتا ہے۔ یہ نظام گاڑیوں کی نقل و حرکت، عمارتوں کی سرگرمیوں اور مشکوک مقامات کی نشاندہی کرتے ہیں۔لاطینی امریکہ میں وینزویلا کے صدر نیکولس مادورو کے خلاف کارروائیوں اور نگرانی کے واقعات نے بھی یہ دکھایا کہ جدید ٹیکنالوجی سیاسی اور سکیورٹی معاملات میں کس قدر اثر انداز ہو رہی ہے۔ بڑے پیمانے پر جمع ہونے والا ڈیٹا، چہرہ شناختی نظام اور خودکار تجزیہ اب ریاستی طاقت کے اہم اوزار بنتے جا رہے ہیں۔
امریکہ کے محکمۂ دفاع پینٹاگون نے اسی مقصد کے لئے سات کے قریب اے آئی کمپنیوں کے ساتھ ار بوں ڈالر کے منصوبے شروع کئے ہیں . جس میں ڈرون طیاروں کی ویڈیوز اور سٹلائیٹ تصاویر کو خودکار نظام کے ذریعے جانچا جاتا تھا تاکہ ممکنہ اہداف کی نشاندہی کی جا سکے۔ جن کمپنیوں کے ساتھ یہ معاہدے ہوئے ان میں اوپن اے کے ساتھ 20 کروڑ ڈالر کا منصوبہ جو فوجی ڈیٹا کے تجزیے، سائبر دفاع اور سرکاری نظام میں استعمال کیا جا رہا ہے. اسی طرح گوگل سے ہونے والے معاہدے کے تحت پینٹاگون کو اے آئی انفراسٹرکچر اور کلاؤڈ سسٹم فراہم کر رہا ہے جو فوجی ڈیٹا پراسیسنگ اور نگرانی کے منصوبوں میں استعمال ہو رہا ہے. جبکہ انتھروپک نامی کمپنی کا ماڈل کلاؤڈ خفیہ معلومات کے تجزیے اور قومی سلامتی کے منصوبوں میں استعمال کیا گیا۔اس کمپنی سے بھی تقریباً 20 کروڑ ڈالر تک کا معاہدہ ہوا تھا . ایکس اے آئی کی گروک کو حکومتی اور دفاعی نظام کے لیے تیار کیا گیا۔ جس کے ساتھ فوجی اور انٹلی جنس کاموں میں اے آئی کے استعمال کے لیے معاہدہ کیا گیا۔ دیگر کمپنیوں میں اسکیل اے آئی بھی پینٹاگون کے منصوبے میں شامل ہے جو فوجی طیاروں ، بحری جہازوں اور ہتھیاروں کی نقل و حرکت کی منصوبہ بندی میں اے آئی استعمال کرنے کے لیے کام کر رہی ہے۔ انڈریل انڈرسٹریز خودکار ڈرون اور دفاعی نظام میں اے آئی شامل کرنے کے منصوبوں میں شریک ہے ۔ اسی طرح پلانٹیر ٹیکنا لوجیز فوج اور
انٹلی جنس اداروں کے لیے ڈیٹا تجزیہ کا اے آئی پلیٹ فارم فراہم کرتی ہے۔
اس منصوبے میں ٹیکنالوجی کمپنیوں کے ماہرین بھی شامل ہیں ۔ لیکن جب اس منصوبے کی تفصیلات سامنے آئیں تو کمپنیوں کے اندر بھی بحث شروع ہو گئی کہ اگر مصنوعی ذہانت کی بنیاد پر ہدف چنا گیا اور معلومات غلط نکلیں تو اس کا ذمہ دار کون ہوگا۔ان تمام واقعات کے درمیان ایک اہم سوال سامنے آتا ہے۔ اگر جنگی حکمت عملی اور نگرانی کے نظام میں مصنوعی ذہانت اتنی طاقتور ہو چکی ہے تو اس طاقت کی اصل ڈور کس کے ہاتھ میں ہے۔ کیا یہ اختیار صرف حکومتوں کے پاس ہے یا بڑی ٹیکنالوجی کمپنیاں بھی اس میں برابر کی شریک ہیں۔حقیقت یہ ہے کہ آج کی جنگی ٹیکنالوجی حکومتوں اور نجی ٹیکنالوجی کمپنیوں کے اشتراک سے تیار ہو رہی ہے۔ فوجی ادارے وسائل اور حکمت عملی فراہم کرتے ہیں جبکہ ٹیکنالوجی کمپنیاں وہ نظام تیار کرتی ہیں جو ڈیٹا کو سمجھنے اور فیصلوں کو تیز کرنے میں مدد دیتے ہیں۔اسی اشتراک کے دوران ایک بڑا تنازع بھی سامنے آیا جب مصنوعی ذہانت کی معروف کمپنی اوپن اے آئی نے امریکی محکمہ دفاع کے ساتھ تعاون کا فیصلہ کیا۔ اس فیصلے پر کمپنی کے روبوٹکس اور ہارڈویئر شعبے کی سربراہ کیٹلِن کیلینووسکی نے اپنے عہدے سے استعفیٰ دے دیا۔ ان کے مطابق جنگی اور نگرانی کے نظام میں مصنوعی ذہانت کے استعمال سے اخلاقی اور انسانی سوالات پیدا ہو رہے ہیں اور اس معاملے پر مزید سنجیدہ بحث کی ضرورت ہے۔یہ واقعہ اس بات کی علامت ہے کہ ٹیکنالوجی کی دنیا کے اندر بھی اس موضوع پر شدید بحث جاری ہے۔ ایک طرف حکومتیں اس ٹیکنالوجی کو قومی سلامتی کے لیے ضروری سمجھتی ہیں جبکہ دوسری طرف بعض ماہرین کو خدشہ ہے کہ اگر فیصلوں میں مشینوں کا کردار بڑھتا گیا تو جنگ کی رفتار انسان کی سوچ سے بھی تیز ہو جائے گی۔
دنیا اب ایک ایسے دور میں داخل ہو رہی ہے جہاں طاقت کا روایتی تصور تبدیل ہو رہا ہے۔ ٹینک، طیارے اور میزائل اب بھی اہم ہیں مگر اصل برتری اس کے پاس ہو گی جس کے پاس بہتر ڈیٹا، زیادہ طاقتور تجزیاتی نظام اور تیز رفتار فیصلہ سازی کی صلاحیت ہو گی. یہاں سب سے اہم سوال یہ ہے کہ مستقبل کی جنگوں میں ڈرائیونگ سیٹ پر آخر بیٹھا کون ہو گا۔ کیا یہ اختیار ریاستوں کے پاس رہے گا یا پھر بڑی ٹیکنالوجی کمپنیاں بھی عالمی طاقت کے توازن میں مرکزی کردار ادا کریں گی۔ یہی وہ سوال ہے جو آنے والے برسوں میں عالمی سیاست اور جنگی حکمت عملی کی سمت کا تعین کرے گا ایران کے اسکول شجرۂ طیبہ کے اس سانحے نے ایک مرتبہ پھر پوری دنیا کو یہ سوال سوچنے پر مجبور کر دیا ہے کہ جنگ میں ٹیکنالوجی کی حد کہاں تک ہونی چاہیے۔ اگر ہدف کی نشاندہی میں معمولی سی معلوماتی غلطی بھی ہو جائے تو اس کا نتیجہ صرف ایک فوجی نقصان نہیں بلکہ معصوم بچوں کی جانوں کے ضیاع کی صورت میں نکل سکتا ہے۔اسی لئے ماہرین کہتے ہیں کہ مصنوعی ذہانت جنگی فیصلہ سازی میں مدد تو دے سکتی ہے . لیکن آخری فیصلہ ہمیشہ انسان کے ہاتھ میں ہونا چاہیے۔ کیونکہ جنگ کے میدان میں ایک غلط اندازہ یا ایک غلط تصویر بھی سینکڑوں زندگیوں کو بدل سکتی ہے۔..
آپ کو میرا یہ پروگرام کیسا لگا کمنٹس سیکشن میں جاکر کمنٹ ضرور کیجئے