امریکا کی سب سے بڑی کاروباری تنظیم یو ایس چیمبر آف کامرس نے ٹرمپ انتظامیہ کے خلاف کیس فائل کردیا ہے۔ امریکی چیمبر آفس کامرس کی جانب سے جمعرات کو ٹرمپ انتظامیہ پر ایک لاکھ ڈالرزایچ ون بی ویزا فیس کے نفاذ کو چیلنج کیا گیا ہے۔چیمبر آف کامرس نے کہا کہ ٹرمپ کی نئی فیس سے وہ کاروبار جو ایچ- ون بی ویزا پروگرام پر انحصار کرتے ہیں انہیں یا تو اپنی افرادی لاگت میں نمایاں اضافہ کرنا پڑے گا یا پھر اعلیٰ مہارت رکھنے والے کارکنوں کی بھرتی کم کرنی ہوگی۔مقدمے میں کہا گیا ہے کہ یو ایس چیمبر کے کئی ارکان اس بات کے لیے تیار ہو رہے ہیں کہ انہیں ایچ- ون بی پروگرام کو محدود یا مکمل طور پر ختم کرنا پڑ سکتا ہے جس سے ان کے سرمایہ کاروں، صارفین اور موجودہ ملازمین سب متاثر ہوں گے۔چیمبر نے اپنے مقدمے میں مؤقف اختیار کیا ہے کہ ستمبر میں صدر ٹرمپ کا جاری کردہ اعلان جس میں نئی ایچ- ون بی ویزا درخواستوں پر بھاری فیس عائد کی گئی تھی ان کے آئینی اختیارات سے تجاوز ہے اور اس سے وہ پیچیدہ ویزا نظام متاثر ہوگا جو امریکی کانگریس نے وضع کیا ہے۔رپورٹ کے مطابق یہ مقدمہ واشنگٹن ڈی سی کی وفاقی عدالت میں دائر کیا گیا ہے.چیمبر آف کامرس کی جانب سے ٹرمپ انتظامیہ کے خلاف پہلا قانونی اقدام ہے جب سے ریپبلکن صدر نے جنوری میں اپنے دوسرے دورِ صدارت کا آغاز کیا ہے۔ایچ- ون بی ویزا پروگرام کے تحت امریکی کمپنیاں خصوصی مہارت رکھنے والے غیر ملکی کارکنوں کو ملازمت دینے کی اہل ہوتی ہیں.اس پروگرام کے تحت سالانہ 65 ہزار ویزے جاری کیے جاتے ہیں جب کہ اعلیٰ تعلیمی ڈگری رکھنے والے کارکنوں کے لیے مزید 20 ہزار ویزے مختص ہیں۔ ان ویزوں کی مدت تین سے چھ سال تک ہوتی ہے۔