ترکی میں حکومت مخالفین کے خلاف بڑے پیمانے پر کریک ڈاؤن کا سلسلہ جاری ہے اس کے باوجود ترک مظاہرین منگل کو مسلسل چھٹے دن سڑکوں پر نکلے۔ اس دوران سات صحافیوں کو بھی حراست میں لے لیا گیا ہے۔امام اوغلو کی بدعنوانی اور دہشت گردی کے الزامات میں گرفتاری کے بعد سے احتجاج کا سلسلہ استنبول سے ترکی کے 55 سے زائد صوبوں تک پھیل چکا ہے جہاں مظاہرین اور پولیس کے درمیان شدید جھڑپیں ہو رہی ہیں۔حالیہ احتجاج میں گرفتار مظاہرین کی تعداد 14 سو سے تجاوز کرچکی ہے۔ پولیس نے استنبول میں مظاہرین پر واٹر کینن کا استعمال کیا ہے۔ ترک صدر کی مظاہرین سے صبر اور عقل سے کام لینے کی اپیل کی ہے۔منگل کے روز استنبول کے سسلی ضلع میں میونسپل ہیڈ کوارٹر کی طرف بڑھتے ہوئے ہزاروں افراد نے مارچ کیا اور حکومت سے مستعفی ہونے کا مطالبہ کیا۔مظاہرین نے جھنڈے اور بینرز اٹھا رکھے تھے جن پر طیب استعفیٰ دو کے نعرے درج تھے۔ جب کہ سڑکوں کے کنارے مکانات کی بالائی منزلوں پر موجود لوگ مظاہرین کی حمایت میں پلیٹیں اور کٹورے بجا رہے تھے۔53 سالہ امام اوغلو کو ترکی کا وہ واحد سیاست دان سمجھا جاتا ہے جو انتخابات میں اردوان کو شکست دے سکتے ہیں ان کی گرفتاری کو سیاسی انتقام اور اردوان کے اقتدار کو مستحکم کرنے کی کوشش قرار دیا جا رہا ہے۔امام اوغلو کی جیل میں منتقلی پر عالمی برادری بھی سخت ردعمل دے رہی ہے۔ جرمنی، یونان، فرانس اور یورپی یونین نے اس کارروائی کی مذمت کرتے ہوئے ترکی پر جمہوری اصولوں کو برقرار رکھنے کا دباؤ بڑھا دیا ہے۔دریں اثنا انقرہ کے گورنر نے کہا ہے کہ وہ وفاقی دارالحکومت میں کسی بھی قسم کے احتجاج پر پابندی میں یکم اپریل تک توسیع کر رہے ہیں ترکیہ کے صدر ایردوآن نےیک دعوت افطار میں نوجوانوں کے ایک گروپ سے خطاب کرتے ہوئے لوگوں سے صبروتحمل اور عقل سے کام لینے پر زور دیا۔ انہوں نے حالیہ دنوں کو انتہائی حساس قرار دیا۔ایردوآن نے کہا جو لوگسڑکوں پر دہشت گردی اور اس ملک کو افراتفری کرنا چاہتے ہیں ان کے پاس آگے جانے کی کوئی جگہ نہیں ہے۔ انہوں نے جو راستہ اختیار کیا ہے وہ بند ہو گیا ہے۔