داعش دہشتگرد شریف اللہ پر کیا الزامات ہیں

غیر ملکی میڈیا سے حاصل معلومات کے مطابق ایف بی آئی نے بتایا کہ شریف اللہ نے کابل ایئرپورٹ پر 26 اگست 2021 کو ہونے والے خودکش حملے میں ملوث ہونے کا اعتراف کیا جس میں 13 امریکی اہلکار اور 170 افغان شہری ہلاک ہوئے تھے۔امریکی محکمہ انصاف کا کہنا تھا کہ شریف اللہ نے 2 مارچ کو ایف بی آئی ایجنٹس کے سامنے تسلیم کیا ہےکہ وہ 2000 میں داعش میں بھرتی ہوا تھا افغانستان میں امریکی فوج کے انخلا کے وقت کی گئی دہشت گردی سے متعلق شریف اللہ نے بتایا کہ اس نے ایک حملہ آور کو کابل ائیرپورٹ کا راستہ دکھایا تھا۔شریف اللہ نے بتایا کہ اس نے قانون نافذ کرنے والوں، امریکیوں یا طالبان کی چیک پوائنٹس پر ممکنہ موجودگی کو خود جانچا تھا اور بعد میں داعش کے دیگر دہشت گردوں کو بتایا تھا کہ راستہ صاف ہے اور یہ کہ خود کش بمبار کو پہچانا نہیں جا سکے گا۔شریف اللہ نے اس سے قبل افغانستان میں داعش کے متعدد حملوں میں بھی ملوث ہونے کا اعتراف کیا ہے امریکی حکام کے مطابق گزشتہ سال 22 مارچ کو ماسکو کے قریب کراکس سٹی ہال پر حملے میں بھی شریف اللہ نے سہولت کاری کا اعتراف کیا ہے ایف بی آئی کے مطابق سٹی ہال پر حملہ آور افراد کو اسلحہ چلانے کے حوالے سے معلومات فراہم کی تھی، اور گرفتار 4 میں سے دو حملہ آوروں کو اسی نے ہدایات دی تھیں۔20 جون 2016 کو داعش کے خود کش بمبار نے کابل میں کینیڈین سفارتخانے کے باہر حملہ کیا تھا جس میں سفارتخانے کے 10 سے زائد محافظ اور کئی شہری ہلاک اور اہلکاروں سمیت کئی شہری زخمی ہوئے تھے۔شریف اللہ نے اس حملے کیلئے علاقے کا جائزہ لینے اور دہشت گرد کو وہاں پہنچانے کا بھی اعتراف کیا ہے۔شریف اللہ نے ایف بی آئی ایجنٹس کو بتایا کہ وہ 2019 سے افغانستان کی جیل میں تھاکابل حملے سے 2 ہفتے پہلے رہا ہوا تو اسے داعش نے موٹرسائیکل دی ٹیلی فون خریدنے کیلئے رقم دی اور خبردار کیا کہ حملوں کے موقع پر داعش کے دیگر افراد سے رابطوں کیلئے صرف سوشل میڈیا پلیٹ فارم استعمال کیا جائے

What were the charges against ISIS terrorist Sharifullah

اپنا تبصرہ لکھیں