روسی صدر نے یوکرین میں جنگ بندی سے متعلق امریکی تجاویز سے اتفاق کرلیا

روسی صدر ولادیمیر پیوٹن نے کہا ہے کہ روس یوکرین میں جنگ بندی کے لیے امریکی تجاویز سے اتفاق کرتا ہے لیکن کسی بھی جنگ بندی کے لیے تنازع کی بنیادی وجوہات سے نمٹنا ہوگا اور اس سے متعلقہ تفصیلات کو حل کرنے کی ضرورت ہے۔غیرملکی میڈیا کے مطابق حال ہی میں امریکا نے روس پر زور دیا ہے کہ وہ یوکرین میں ایک ماہ کی جنگ بندی پر غیر مشروط طور پر رضامندی ظاہر کرے جس پر روس کی جانب سے اتفاق کیا گیا ہے۔ بیلاروس کے صدر الیگزینڈر لوکاشینکو کے ساتھ بات چیت کے بعد کریملن میں پریس کانفرنس کے دوران پیوٹن کا کہنا تھا کہ ہم دشمنی ختم کرنے کی تجاویز سے اتفاق کرتے ہیں۔روسی صدر نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ وہ چاہتے ہیں کہ جنگ کے خاتمے کے لیے کی جانے والی کوششوں کو ایک امن ساز کے طور پر یاد رکھا جائے. ماسکو اور واشنگٹن دونوں اب ایک خطرناک پراکسی جنگ کے طور پر دیکھتے ہیں جو تیسری عالمی جنگ میں تبدیل ہو سکتی ہے۔ان کا کہنا تھا کہ جنگ بندی کی تجاویز درست ہیں اور ہم یقینی طور پر اس کی حمایت کرتے ہیں لیکن ہم اس حقیقت سے آگے بڑھتے ہیں کہ یہ جنگ بندی ایسی ہونی چاہیے کہ اس سے طویل مدتی امن قائم ہو اور اس بحران کی اصل وجوہات ختم ہو جائیں.واضح رہے کہ صدر ٹرمپ نے دھمکی دی تھی کہ اگر ماسکو مذاکرات میں ناکام رہا تو اس کے خلاف سخت پابندیاں عائد کی جائیں گی لیکن اگر وہ یوکرین میں جنگ بندی پر راضی ہو جاتا ہے تو پابندیوں میں نرمی کی جائے گی۔

Russian President Agrees to US Proposals for a Ceasefire in Ukraine

اپنا تبصرہ لکھیں