اسرائیلی اخبار نے دعویٰ کیا کہ نئی شامی حکومت اور اسرائیل میں خفیہ بات چیت ہو رہی ہے۔ یہ بات چیت قطر کے ذریعے آذربائیجان میں ہو رہی ہے جس میں ترکیہ بھی شامل ہے۔اسرائیلی اخبار کا کہنا ہے کہ شام کی عبوری حکومت اور اسرائیلی حکام کے دروان ہونے والی خفیہ بات چیت میں شام کو معاہدہ ابراہمی میں شامل کرنےکا ایجنڈا بھی شامل ہے۔غیر ملکی میڈیا کے کے مطابق ایک اسرائیلی اخبار نے دعویٰ کیا ہے کہ بات چیت میں اسرائیلی چیف آف آپریشنز ڈائریکٹوریٹ، شامی اور ترک بھی حکام شامل ہیں۔واضح رہے کہ ابراہیمی معاہدہ اسرائیل اور کئی عرب ممالک کے درمیان تعلقات کو معمول پر لانے کے لیے طے پانے والے معاہدوں کا ایک سلسلہ ہے۔ یہ معاہدے 2020 میں امریکا کی ثالثی میں طے پائے گئے تھے۔ ان کا مقصد مشرقِ وسطیٰ میں امن اور تعاون کو فروغ دینا تھا.ابراہیمی معاہدے کو سال 2020 میں طے کرتے وقت اس کے اہم فریق اسرائیل، متحدہ عرب امارات، بحرین، سوڈان اور مراکش تھے۔امریکا نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی پہلی مدت کی انتظامیہ کے دور میں بطور ثالث کردار ادا کرنے کے لیے اس معاہدے کے مذاکراتی سلسلوں اور نفاذ میں اہم کردار ادا کیا تھا ابراہیمی معاہدے کو سال 2020 میں طے کرتے وقت اس کے اہم فریق اسرائیل، متحدہ عرب امارات، بحرین، سوڈان اور مراکش تھے۔امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا ہے کہ شامی صدر احمد الشرع نے معاہدہ ابراہمی میں شمولیت پر رضامندی ظاہر کی ہے اسرائیلی اخبار کا کہنا ہے کہ اسرائیل، شامی سرحد کی ازسرنو ترتیب کو خارج از امکان قرار نہیں دے رہا۔
