امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے محکمہ دفاع میں بڑے پیمانے پر تبدیلیاں کرتے ہوئے امریکی دفاعی لائن ہلا کر رکھ دی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے امریکی فوج کے سب سے بڑے فوجی افسر چیئرمین آف دی جوائنٹ چیفس آف سٹاف سی کیو براؤن کو ان کے عہدے سے برطرف کر دیا ہے۔جبکہ قبل ازیں جمعہ کو وزیر دفاع نے چیف آف نیول آپریشنز ایڈمرل لیسا فرینچیٹی اور ائیر فورس کے وائس چیف آف سٹاف جنرل جیمز سلائف کو بھی برطرف کیا ہے۔وزیر دفاع پیٹ ہیگستھ نے فوج کے اعلیٰ قانونی ماہرین، یعنی آرمی، نیوی اور ایئرفورس کے جج ایڈووکیٹس جنرل کو بھی برطرف کر دیا ہے . اطلاعات کے مطابق وزیر دفاع ہیگستھ نے سینئر فوجی حکام کو اگلے پانچ سالوں میں فوجی بجٹ میں آٹھ فیصد کٹوتی کے منصوبے تیار کرنے کا حکم دیا ہے۔اس کے علاوہ، پینٹاگون میں ملازمین کی تعداد میں نمایاں کمی کرتے ہوئے ساڑھے پانچ ہزار ملازمین کو فارغ کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔صدر ٹرمپ نے کہا کہ فوج کے مزید پانچ اعلیٰ افسران کو بھی تبدیل کیا جا رہا ہے صدر ٹرمپ نے کہا کہ وہ ایئر فورس کے لیفٹیننٹ جنرل ڈین کین کو جوائنٹ چیفس آف سٹاف کے نئے چیئرمین کے طور پر نامزد کرنے جا رہے ہیں ۔صدر ٹرمپ نے ایئر فورس جنرل براؤن کو اچانک عہدے سے فارغ کرتے ہوئے سوشل میڈیا پر اپنی پوسٹ میں لکھا کہ وہ وہ جنرل چارلس سی کیوبراؤن کے ملک کے لیے 40 برس سے زائد کی خدمات پر ان کا شکریہ ادا کرتے ہیں۔جنرل چارلس براؤن فائٹر پائلٹ کی حیثیت سے تاریخ ساز عہدیدار سمجھے جاتے ہیں اور فوج میں مختلف نسلوں اور صنفی برابری کے چیمپئن مانے جاتے تھے۔وہ امریکی فوج میں دوسرے سیاہ فام جنرل تھے جو جوائنٹ چیفس آف اسٹاف کے چیئرمین کے عہدے تک پہنچے تھے۔ برظرف ہونے والی چیف آف نیول آپریشنز ایڈمرل لیسا پہلی خاتون ہیں جو امریکی بحریہ کی سربراہ بنیں۔