غیر ملکی میڈیا رپورٹس کے مطابق ٹرمپ نے اسرائیل کے آئرن ڈوم میزائل ڈیفنس سسٹم سے متاثر ہو کر اپنے محکمہ دفاع کو حکم دیا ہے کہ وہ امریکہ کے لیے بھی ایسا ہی نظام بنائے، جس گولڈن ڈوم کہا جائے گا ۔رپورٹ میں کہا گیا کہ ڈونلڈ ٹرمپ اسرائیل کے آئرن ڈوم کی طرز پر مزیدطاقتور سسٹم چاہتے ہیں گولڈن ڈوم دفاعی لانگ رینج میزائل سے امریکا کو بچانے میں اہم کردار ادا کرے گا۔ گولڈن ڈوم بہت بڑا ہوگا اور اسے حقیقت بننے کے لیے اہم تکنیکی ترقی کی ضرورت ہوگی۔گولڈن ڈوم سسٹم بنانے کا مقصد امریکہ کو شیلڈ فراہم کرنا ہے، جیسا کہ خلا پر مبنی سینسرز اور انٹرسیپٹرز کا استعمال کرتے ہوئے آنے والے میزائلوں کا پتہ لگانے اور انہیں شکست دینا ہے۔رپورٹ کے مطابق گولڈن ڈوم اسرائیل کے آئرن ڈوم سے متاثر امریکی میزائل ڈیفنس پلان کا ری برانڈڈ ورژن ہوگا۔ تاہم دونوں کے سسٹمز مختلف ہوں گے۔ آئرن ڈوم اسرائیل کو مختصر فاصلے کے خطرات سے بچاتا ہے، جبکہ گولڈن ڈوم کا مقصد پورے امریکہ کو خلائی نظام کا استعمال کرتے ہوئے بیلسٹک اور ہائپر سونک میزائل جیسے پیچیدہ خطرات سے بچانا ہوگا۔ ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ اس منصوبے کو اہم تکنیکی اور اقتصادی رکاوٹوں کا سامنا ہوگا بعض لوگ اسے ایک ناقابل عمل اور مہنگا پراجیکٹ قرار دے رہے ہیں۔ناقدین کا استدلال ہے کہ اس طرح کے نظام کی تعمیر کے لیے سیٹلائٹ، ریڈارز اور انٹرسیپٹرز کے بڑے نیٹ ورک کی ضرورت ہوگی، جس سے اسے برقرار رکھنا مشکل ہو جائے گا۔