اسرائیلی میڈیا میں شائع شدہ خبروں کے مطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور اسرائیلی وزیراعظم نے دو ہفتوں میں غزہ میں جنگ ختم کرنے پر اتفاق کیا ہے۔دی ٹائمز آف اسرائیل کی رپورٹ کے مطابق حماس کی جگہ 4 عرب ممالک غزہ کا انتظام سنبھالیں گے۔ رپورٹ کے مطابق رواں ہفتے کے آغاز میں امریکا کے ایران پر حملے کے بعد اسرائیلی وزیرِاعظم بنیامین نیتن یاہو اور امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے درمیان گفتگو ہوئی جس میں دونوں رہنماؤں نے غزہ میں جنگ کے فوری خاتمے اور ابراہیمی معاہدے کو توسیع دینے پر اتفاق کیا گیا۔اسرائیلی میڈیا نے ذرائع کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا کہ غزہ میں موجود یرغمالیوں کو رہا اور حماس کی قیادت کوجلا وطن کیا جائے گا جو فلسطینی غزہ چھوڑنا چاہیں گے ان کو دوسری ریاست پہنچایا جائے گا۔رپورٹ کے مطابق، ایک باخبر ذریعے کا کہنا ہے کہ ٹرمپ اور نیتن یاہو نے فون پر اس بات پر اتفاق کیا کہ غزہ کی جنگ آئندہ دو ہفتوں میں ختم کر دی جائے گی اس کے بعد چار عرب ممالک جن میں متحدہ عرب امارات اور مصر بھی شامل ہیں حماس کی جگہ غزہ پر مشترکہ طور پر حکومت کریں گے اور حماس کی قیادت کو جلاوطن کر دیا جائے گا اور تمام یرغمالیوں کو رہا کر دیا جائے گا۔ٹرمپ اور نیتن یاہو کے درمیان فون کال میں سعودی عرب اور شام کے اسرائیل سے سفارتی تعلقات قائم کرنے پر بھی بات ہوئی اخبار کے مطابق سعودی عرب اور شام کے سفارتی تعلقات کے جواب میں اسرائیل دو ریاستی حل کی حمایت کرے گا دو ریاستی حل کی اسرائیلی حمایت کے لیے فلسطینی اتھارٹی میں اصلاحات کی شرط رکھی گئی ہے جبکہ امریکا کی جانب سے مغربی کنارے کے کچھ حصوں پر اسرائیلی خودمختاری کو تسلیم کیا جائے گا۔
