لاہور میں ڈیلیوری ایپ کا رائیڈر 45 ہزار روپے کا کھانا لے کر غائب

لاہور میں ڈیلیوری ایپ کا رائیڈر 45 ہزار روپے کا کھانا لے کر غائب ہوگیا. اس سلسلے میں لاہور کے رہائشی حماد حسن نے تھانہ ہربنس پورہ میں ایف آئی آر درج کرائی ہے جس کے مطابق انھوں نے ایک نجی کمپنی کے بائیک رائیڈر کے ذریعے اپنے ایک عزیز کے گھر 45 ہزار روپے کا کھانا بھیجا تھا مگر کچھ دیر بعد رائیڈر کا نمبر بند ہو گیا۔ایف آئی آر میں حماد حسن کی جانب سے شکایت کی گئی ہے کہ انہوں نے ایک آن لائن ٹیکسی ایپ پر ڈیلیوری بائیک کی رائیڈ بُک کروائی جس کی پک آپ لوکیشن سلامت پورہ اور ڈراپ آف لوکیشن ماڈل ٹاؤن تھی۔ایف آئی آر میں حماد حسن کا مزید کہنا تھا کہ نجی کمپنی کی جانب سے آنے والے رائیڈر نے ہمارے گھر سے کھانا لیا اور کُچھ دیر بعد رائیڈ کینسل کر دی۔اس کے بعد انھوں نے کمپنی سے متعدد بار رابطہ کرنے کی کوشش کی مگر تاحال کوئی جواب نہیں ملا اور جب بائیک رائیڈر سے رابطہ کیا تو نمبر بند جا رہا تھا۔تھانہ ہربنس پورہ کے اے ایس آئی راؤ شفقات نے بتایا کہ پولیس کی جانب سے اس سلسلے میں تحقیقات کی جا رہی ہے اُن کا کہنا تھا کہ مسئلہ کھانے کا نہیں۔ یہ بھی چلیں ہم برداشت کر لیں گے کہ ہمارے گھر کے قیمتی برتن بھی کھانے کے ساتھ غائب ہو گئے مگر تکلیف اس شرمندگی کی وجہ سے ہو رہی ہے جس کی وجہ سے ہم اپنے رشتہ داروں سے بات بھی نہیں کر پائے۔حماد حسن کا کہنا تھا کہ کھانے میں بکرے کے گوشت سے بنی چار سے پانچ دششز تھیں مٹن بریانی تھی مٹن قورمہ تھا اور وہ بھی ایسا کہ جس میں کاجو، بادام، کشمش اور دیگر مہنگے خشک میوہ جات کا استعمال کیا گیا تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ آج کل کے اس مہنگائی کے دور میں 10 سے 15 افراد کے کھانے پر 45 ہزار تو لگ ہی جاتے ہیں۔

لاہور میں ڈیلیوری ایپ کا رائیڈر 45 ہزار روپے کا کھانا لے کر غائب

اپنا تبصرہ لکھیں