لپ اسٹک خواتین کی زندگی کا وہ اہم جزو ہے جس کے بغیر ان کی کسی بھی تقریب کی تیاری ادھوری سی رہتی ہے۔تاہم خواتین کو شاید اس بات کا علم نہیں کہ روزانہ کی بنیاد پر لگائی جانے والی لپ اسٹک آپ کی صحت کیلئے خطرناک بھی ہے۔ یونیورسٹی آف کیلیفورنیا کے برکلے اسکول آف پبلک ہیلتھ کی ایک تحقیق میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ آج کل دستیاب زیادہ تر ہونٹوں کے گلوز اور لپ اسٹکس میں کرومیم، لیڈ، ایلومینیم، کیڈمیم اور کئی دیگر زہریلے مواد شامل ہوتے ہیں۔تحقیق میں مزید بتایا گیا ہے کہ لپ اسٹک جتنی گہرے رنگ کی ہوگی اس میں زہریلے کیمیکل کی مقدار بھی اتنی ہی زیادہ ہوگی.تحقیق میں بتایا گیا ہے کہ لپ اسٹک کا مسلسل استعمال صحت کے مسائل کا باعث بن سکتی ہے، خاص طور پر ان لوگوں میں جو 24 گھنٹوں کے دوران 2 سے 3 بار لپ اسٹک لگاتے ہیں تحقیق کے مطابق لپ اسٹک کا باقاعدگی سے استعمال جسم میں کرومیم کی مقدار کو ضرورت سے زیادہ بڑھا دیتا ہے، جو پیٹ میں ٹیوم کا باعث بن سکتا ہے۔اس کے علاوہ لپ اسٹک کا استعمال ہونٹوں پر الرجی کا باعث بھی بن سکتا ہے اور اس میں موجود کیمیکل اینڈوکرائن سسٹم کو بھی متاثر کر سکتے ہیں۔ ماہرین کے مطابق لپ اسٹک کا استعمال ہفتے میں 2 سے 3 بار سے زیادہ نہ کیا جائے اور اگر ممکن ہوسکے تو کیمیکل فری لپ اسٹک کا انتخاب کریں۔جبکہ حمل کے دوران بھی لپ اسٹک کا زیادہ استعمال کرنے سے پرہیز کریں اور اگر آپ لپ اسٹک لگانا چاہتے ہیں تو اسے لگانے سے پہلے اپنے ہونٹوں پر پیٹرولیم جیلی لگا لیں اس سے آپ کے ہونٹوں کو کم نقصان پہنچے گا۔