بحریہ ٹاؤن کے مالک ملک ریاض نے سماجی رابطے کی ویب سائیٹ ایکس پر اپنے بیان میں اس بات کا عندیہ دیا ہے کہ ملک بھر میں بحریہ ٹاؤن کی تمام سرگرمیاں بند کی جا سکتی ہیں۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ حالیہ چند ماہ میں حکومتی اداروں کی جانب سے دباؤ اور مختلف کارروائیوں کی وجہ سے بحریہ ٹاؤن کا آپریشن شدید متاثر ہو چکا ہے۔ملک ریاض نے بحریہ ٹاؤن کو درپیش قانونی مشکلات کے درمیان مکالمے اور باوقار حل کی اپیل کردی۔ملک ریاض نے ایکس پر بیان دیتے ہوئے کہا کہ میں دل کی گہرائیوں سے آخری اپیل کرتا ہوں کہ ہمیں سنجیدہ مکالمے اور ایک باوقار حل کی طرف واپس جانے کا موقع دیا جائے۔انہوں نے مزید کہا کہاس مقصد کے لیے ہم یقین دلاتے ہیں کہ ہم کسی بھی ثالثی میں مکمل شرکت کریں گے اور اس کے فیصلے پر سو فیصد عملدرآمد کریں گے اگر ثالثی کے فیصلے میں ہمیں رقم کی ادائیگی کا پابند کیا گیا تو انشاء اللہ ہم اسے ادا کریں گے۔ملک ریاض نے اپنے بیان میں دعوٰی کیا ہے کہ ان کے خلاف حکومتی اداروں کی جانب سے متعدد اقدامات کیے گئے ہیں جن میں درجنوں اسٹاف ارکان کی گرفتاری، کمپنی کے بینک اکاؤنٹس کی منجمدی، عملے کی گاڑیوں کی ضبطی اور دیگر سخت اقدامات شامل ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اس کے نتیجے میں بحریہ ٹاؤن کی رقوم کی روانی بالکل تباہ ہو چکی ہے اور روزمرہ سروسز فراہم کرنا ناممکن ہو چکا ہے۔ان کا کہنا ہے کہ ہم اپنے اسٹاف کی تنخواہیں ادا کرنے کے قابل نہیں ہیں اور حالات اس حد تک پہنچ چکے ہیں کہ ہم پاکستان بھر میں بحریہ ٹاؤن کی تمام سرگرمیاں مکمل طور پر بند کرنے پر مجبور ہو رہے ہیں۔ملک ریاض نے امید ظاہر کی کہ پاکستان کے ادارے انصاف، حکمت اور دانشمندی سے کام لیں گے اور ہمیں اس مشکل موڑ سے نکالنے میں مثبت کردار ادا کریں گے۔ملک کی ریاض کی جانب سے یہ اپیل اس وقت سامنے آئی جب اسلام آباد ہائی کورٹ نے بحریہ ٹاؤن کی جائیداد کی نیلامی روکنے کی درخواستیں مسترد کر دی تھیں یہ اثاثے 190 ملین پاؤنڈ کے العزیزیہ ٹرسٹ کیس میں پلی بارگین معاہدے کے تحت منسلک کیے گئے تھے۔
