امریکا نے 5 لاکھ سے زائد تارکین وطن کی قانونی حیثیت ختم کرنے کا اعلان کرتے ہوئے انہیں ملک چھوڑنے کے لئے چند 24اپریل تک کا وقت دے دیا۔غیر ملکی خبر ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق امریکی صدر کے حکم سے کیوبا، ہیٹی، نکاراگوا اور وینزویلا سے آنے والے تارکین وطن متاثر ہوں گے جو سابق صدر جو بائیڈن کی جانب سے شروع کی گئی ایک اسکیم کے تحت امریکا آئے تھے۔صدارتی حکم کا مطلب یہ ہے کہ اس پروگرام کے تحت آنے والے تارکین وطن کو 24 اپریل تک امریکا چھوڑنا ہوگا بشرطیکہ انہوں نے کوئی دوسری امیگریشن حیثیت حاصل نہ کر لی ہو جو انہیں ملک میں رکنے کی اجازت دے۔ان چار ممالک کے افراد کو جنوری 2023 میں اعلان کیے جانے والے ایک پروگرام سی ایچ این وی ے تحت امریکہ میں دو سال تک رہنے کی اجازت دی گئی تھی جہاں انسانی حقوق کی صورتحال اچھی نہیں تھی۔ سی ایچ این وی پروگرام کے تحت جنوری 2023 میں ان ممالک کے شہریوں کو ہر ماہ 30 ہزار افراد کو 2 سال کے لیے امریکہ میں قیام کی اجازت دی گئی تھی۔ تاہم ٹرمپ انتظامیہ نے اس اسکیم کو منسوخ کرنے کا فیصلہ کر لیا ہے جس سے ہزاروں خاندان متاثر ہو سکتے ہیں۔امیگریشن کے وکیل نکولیٹ گلیزر نے کہا کہ اس حکم سی ایچ این وی پروگرام کے تحت آنے والے چھ لاکھ افراد میں سے بڑی تعداد متاثر ہوگی۔انہوں نے کہا کہ صرف 75 ہزار افراد نے پناہ کی درخواستیں دائر کی تھیں لہذا اس پروگرام کے تحت آنے والی اکثریت کو نکالا جا سکتا ہے۔