امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے چین کی ٹیکنالوجی کمپنی بائٹ ڈانس کو ٹک ٹاک کی امریکی شاخ کسی غیر چینی خریدار کو فروخت کرنے کے لیے دی گئی ڈیڈ لائن میں 75 دن کی توسیع کر دی ہے۔ بصورت دیگر، ایپ پر مؤثر پابندی عائد کر دی جائے گی جو 2024 کے قانون کے تحت جنوری سے نافذ ہونا تھی۔ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر ایک پوسٹ میں کہا کہ ٹک ٹاک کے ممکنہ معاہدے کے لیے تمام ضروری منظوریوں میں وقت درکار ہے اس لیے وہ ایک ایگزیکٹو آرڈر پر دستخط کر رہے ہیں تاکہ ایپ کو مزید 75 دن کے لیے فعال رکھا جا سکے۔انہوں نے کہا کہ ہمیں امید ہے کہ چین کے ساتھ اچھے انداز میں کام جاری رکھیں گے تاہم میرے خیال میں وہ ٹیرف کے حوالے سے زیادہ خوش نہیں ہیں۔ڈونلڈ ٹرمپ نے اس سے قبل جنوری میں کہا تھا کہ وہ ٹک ٹاک فروخت نہ ہونے پر پابندی عائد کریں گے اور باقاعدہ ڈیڈ لائن دے دی تھی جو ہفتے کو ختم ہوجائے گی تاہم اس سے قبل ہی انہوں نے ایک نئی ڈیڈلائن دے دی ہے۔چینی کمپنی بائٹ ڈینس کے ترجمان نے بیان میں کہا کہ کمپنی امریکا میں ٹک ٹاک کے مسائل کے حل کے لیے امریکی حکومت کے ساتھ مذاکرات کر رہی ہے تاہم ایک معاہدے پر عمل درآمد نہیں ہوا ہے۔ترجمان نے کہا کہ اس حوالے سے بنیادی معاملات حل کیے جائیں گے اور کوئی معاہدہ چین کے قانون کے تحت منظوری سے منسلک ہوگا۔امریکی صدر نے کہا کہ ہم ٹک ٹاک اور چین کے ساتھ معاہدہ مکمل کرکے لیے پرعزم ہیں اور ہم نہیں چاہتے ہیں کہ ٹک ٹاک بند ہوجائے۔تاہم اس معاہدے کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ چین کی حکومتی منظوری ہے جو تاحال بائٹ ڈانس کو فروخت کی اجازت دینے پر آمادگی ظاہر نہیں کر سکی۔