کانگریس میں ایک نیا بِل پیش کیا جا رہا ہے جس کے تحت ان وفاقی ججوں کے خلاف مواخذے کی کارروائی کا آغاز کیا جا سکتا ہے جنہوں نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے بعض اقدامات کو معطل کیا تھا۔ وائٹ ہاؤس اور ٹرمپ کے حامی اسے حکومتی اختیارات کی بحالی کے طور پر دیکھ رہے ہیں جبکہ ناقدین اسے عدلیہ کی آزادی پر حملہ قرار دے رہے ہیں۔ جس سے عدلیہ اور ایگزیکٹو کے درمیان تناؤ مزید بڑھنے کا امکان ہے . ریپبلکن پارٹی کے رہنما اینڈریو کلائیڈ جو ریاست جارجیا سے ایوان نمائندگان کے رکن ہیں انہوں نے اعلان کیا ہے کہ وہ امریکی ضلعی عدالت کے چیف جج جان جے میک کونل جونیئر کے خلاف مواخذے کی قرارداد پیش کرنے کی تیاری کر رہے ہیں وہ مذکورہ جج کے حکومتی اخراجات پر عائد پابندی کو ختم کرے کے حکم کو ریپبلکن اراکین سیاسی انتقام قرار دے رہے ہیں ۔ صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے حال ہی میں ایک پریس کانفرنس کے دوران وفاقی ججز کے فیصلوں پر شدید تحفظات کا اظہار کیا تھا اور کہا تھا کہ شاید ان ججوں کو بھی دیکھنے کی ضرورت ہے کیونکہ یہ ایک سنگین خلاف ورزی ہے۔اسی طرح، ایریزونا سے ریپبلکن رکن کانگریس ایلی کرین نے بھی وفاقی جج پال اینگل مائر کے خلاف مواخذے کی تحریک لانے کا عندیہ دیا ہے۔اینگل مائر نے ڈپارٹمنٹ آف گورنمنٹ ایفیشنسی کو امریکی محکمہ خزانہ کے حساس ریکارڈز تک رسائی سے روک دیا تھا جس پر ریپبلکن حلقوں میں شدید برہمی پائی جاتی ہے.اس حوالے سے تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ ججز کے خلاف مواخذے کی تحریک کو ایوان نمائندگان میں تو اکثریتی ووٹ سے منظور کیا جا سکتا ہے لیکن سینیٹ میں اس کی منظوری کے امکانات نہایت کم ہیں۔ موجودہ سینیٹ میں ریپبلکن اراکین کی تعداد صرف 53 ہے، جبکہ کسی بھی جج کو ہٹانے کے لیے دو تہائی اکثریت درکار ہوتی ہے۔ امریکی عدلیہ کے ججز کا مواخذہ شاذ و نادر ہی ہوتا ہے اور عام طور پر اس کا اطلاق کرپشن، جھوٹے حلف نامے یا سنگین بدعنوانیوں پر ہوتا ہے۔ 