چین نے امریکہ کو ٹیکنالوجی کیلئے درکار کئی اہم دھاتوں کی برآمد روک دی

چین نے ٹیکنالوجی اور دفاعی صنعت کیلئے ناگزیر نایاب دھاتوں، خاص طور پر مقناطیس اور دیگر اہم معدنیات کی برآمد پر پابندی لگا دی ہے۔ امریکی اخبار رپورٹ کے مطابق چینی حکومت نئی برآمدی پالیسی پر کام کر رہی ہے جس کے باعث ملک بھر کی کئی بندرگاہوں پر ان قیمتی اشیاء کی ترسیل روک دی گئی ہے۔ واضح رہے کہ چین دنیا کی 90 فیصد نایاب دھاتیں پیدا کرتا ہے جن میں ساماریم، گیڈولینیم، ٹربیئم، ڈیسپروسیم، لیوٹیٹیم، سکینڈیئم اور ایٹریئم شامل ہیں۔ یہ دھاتیں دفاعی نظام، الیکٹرک گاڑیوں، اسپیس کرافٹس، ڈرونز، روبوٹس اور کمپیوٹر چپس کی تیاری میں بنیادی حیثیت رکھتی ہیں۔امریکی حکومت کے پاس محدود مقدار میں ان دھاتوں کا ذخیرہ موجود ہے مگر دفاعی صنعت کی طویل المدتی ضروریات کے لیے یہ ناکافی ہے۔امریکہ کی کئی بڑی کمپنیاں جیسے لاک ہیڈ مارٹن، ٹیسلا اور ایپل اپنی مصنوعات میں انہی چینی دھاتوں پر انحصار کرتی ہیں۔چین نے نہ صرف خام دھاتوں بلکہ ان سے بننے والے تیار شدہ پرزوں اور مستقل مقناطیسوں کی برآمد پر بھی کنٹرول لگا دیا ہے بیجنگ کی یہ کارروائی اس بات کی علامت ہے کہ چین اب اپنی معدنی طاقت کو بطور ہتھیار استعمال کرنے سے گریز نہیں کرے گا۔

China has stopped exporting several key metals needed for technology to the US

اپنا تبصرہ لکھیں