چین اور امریکا کے درمیان تجارتی کشیدگی بڑھنے لگی ہے۔ چین نے اپنی تمام ائیرلائن کمپنیوں کو امریکی طیارہ ساز کمپنی بوئنگ سے طیارے نہ خریدنے کا حکم دے دیا ہے۔ اس کے علاوہ امریکی کمپنیوں سے اسپیئر پارٹس اور دیگر آلات کی خریداری پر بھی پابندی عائد کر دی گئی ہے۔غیر ملکی میڈیا کے مطابق یہ قدم اس وقت اٹھایا گیا جب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے چینی مصنوعات پر 145 فیصد ٹیرف نافذ کرنے کا اعلان کیا۔ چین کے اس فیصلے کو امریکا کی اقتصادی جارحیت کا جواب قرار دیا جا رہا ہے۔ادھر ترجمان وائٹ ہاؤس کا کہناہے کہ صدرٹرمپ چین سے ڈیل کرنے کیلئے تیار ہیں چین ڈیل کیلئے تیارہے یا نہیں بال چین کی کورٹ میں ہے وائٹ ہاؤس کی پریس سیکریٹری کیرولائن لیویٹ نے ایک اہم پریس بریفنگ کے دوران کہا ہے کہ چین کو امریکا کے ساتھ تجارتی معاہدہ کرنے کی اشد ضرورت ہےجب کہ امریکا کو اس معاہدے کی کوئی خاص ضرورت نہیں۔ انہوں نے کہا کہ گیند اب چین کے کورٹ میں ہے اور صدر ڈونلڈ ٹرمپ واضح کر چکے ہیں کہ وہ تجارتی معاہدہ کرنے کے لیے تیار ہیں، لیکن پہل بیجنگ کو کرنی ہوگی۔