راشد منہاس روڈ پر پیش آنے والے گزشتہ رات دل خراش ٹریفک حادثے نے ایک خوشیوں بھرا گھر اجاڑ دیا جب ہیوی ٹریفک نے موٹر سائیکل پر سوار تین افراد کو کچل ڈالا۔حادثے میں جاں بحق بائیس سالہ ماہ نور اور چودہ سالہ علی رضا کے چچا ذاکر میڈیا کو بتا رہے تھے کہ بائیس سالہ ماہ نور کی اگلے ماہ شادی تھی جہیز کے لیے گھر والے ایک ایک پیسہ جوڑ رہے تھے۔ہم بچی کا جہیز جمع کر رہے تھے اور آج ہم اس کے کفن کا بندوبست کر رہے ہیں حادثے میں جاں بحق ہونے والی ماہ نور کی اگلے ماہ شادی طے تھی مگر قسمت نے اس کے ہاتھوں میں مہندی کی بجائے کفن تھما دیا۔ ماہ نور اگلے ماہ کی 10 تاریخ کو دلہن بننے والی تھی گھر میں شادی کی تیاریاں جاری تھیں۔متاثرہ فیملی کے چچا ذاکر کا کہنا ہے کہ زخمی والد کو تاحال اس صدمے کی خبر نہیں دی گئی کہ ان کا بیٹا اور بیٹی دونوں اس حادثے میں جان سے گئے۔ذاکر نے بتایا کہ متاثرہ فیملی ملیر سے واپس گھر جارہی تھی ان کے زخمی بھائی جو کپڑے کا کام کرتے تھے جناح اسپتال میں زیر علاج ہیں ان کے دماغ میں شدید چوٹیں آئی ہیں۔ماہ نور سات بہن بھائیوں میں سب سے بڑی اور علی سب سے چھوٹا تھا۔
