صدر ٹرمپ کے میکسیکو اور کینیڈا سے درآمد کی جانے والی اشیا پر 25 فیصد ٹیرف کے اعلان کے بعد شمالی امریکہ میں تجارتی جنگ کے خدشات بڑھ گئے ہیں اور مالیاتی منڈیوں میں مندی دیکھی گئی۔ٹرمپ کے بیان کے بعد امریکی اسٹاک مارکیٹ میں شدید مندی دیکھی گئی جبکہ میکسیکن پیسو اور کینیڈین ڈالر کی قدر میں بھی کمی آئی۔ ٹرمپ کا کہنا تھا کہ انہیں ٹیرف دینا ہوگا یا پھر امریکہ میں اپنے کارخانے اور دیگر صنعتیں لگانی ہوں گی تاکہ انہیں کوئی ٹیرف نہ دینا پڑے۔ٹرمپ کے اعلان کے مطابق چین،کینیڈا اورمیکسیکو پرامریکی ٹیرف کا 25 فیصد نفاذ عائدکردیا گیا ہے جبکہ چین سےاشیا کی امریکا درآمد پر اضافی رقوم کا اطلاق بھی منگل کی رات سے نافذ کردیا گیا ہے صدر ٹرمپ نے واضح کیا کہ امریکہ منشیات خصوصاً فینٹینائل کی ترسیل کو روکنے کے لیے میکسیکو اور کینیڈا کے ساتھ کسی معاہدے کی گنجائش نہیں چھوڑ رہا۔ انہوں نے مزید کہا کہ امریکہ ان ممالک پر جوابی ٹیرف بھی عائد کرے گا جو امریکی مصنوعات پر ڈیوٹی لگاتے ہیں۔اقتصادی ماہرین کا کہنا ہے کہ ٹرمپ کی جانب سے کینیڈا اور میکسیکو پر لگائے گئے نئے ٹیرف، جو سالانہ 900 ارب ڈالر کی امریکی درآمدات پر لاگو ہوں گے، شمالی امریکہ کی معیشت کے لیے بڑا دھچکہ ثابت ہو سکتے ہیں.ٹرمپ کے اعلان کے بعدگاڑیوں کی صنعت بھی شدید متاثر ہوئی جنرل موٹرز کے شیئرز 4 فیصد جبکہ فورڈ کے 1.7 فیصد تک گر گئے.ٹرمپ نے اعلان کیا ہے کہ وہ کینیڈا سے آنے والی لکڑی کی مصنوعات پر بھی اضافی ٹیرف لگانے کے لیے قومی سلامتی کی تحقیقات کر رہے ہیں۔ اس کے علاوہ، چین سے آنے والے بحری جہازوں پر نئی فیس عائد کرنے اور ڈیجیٹل سروسز ٹیکس عائد کرنے والے ممالک کے خلاف کارروائی کا عندیہ دیا ہے۔صدر ٹرمپ کے اقدامات پر ڈیموکریٹک رکن کانگریس سوزان ڈیل بین نے کہا کہ یہ ٹیرف امریکی شہریوں کے لیے مہنگائی میں اضافے کا باعث بنیں گے اور انہیں گروسری، پیٹرول اور دوائیوں پر ہزاروں ڈالر زیادہ خرچ کرنا پڑیں گے۔ اس اقدام پر کینیڈا کی وزیر خارجہ میلانیا جولی نے کہا کہ ’ہم اس صورت حال سے نمٹنے کے لیے تیار ہیں۔ اوول آفس سے غیر متوقع اور غیر یقینی فیصلے آ رہے ہیں، لیکن ہم اس کا مقابلہ کریں گے۔ میکسیکو کی صدر کلاڈیا شینباؤم نے کہا کہ ہمارے پاس پلان بی، سی اور ڈی موجود ہے، اور ہم ٹرمپ کے فیصلے کا جواب دیں گے۔ تاہم انہوں نے کوئی تفصیلات نہیں بتائیں۔