یوکرین کے صدر ولادیمیر زیلنسکی نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے تلخ کلامی کے بعد معافی مانگنے سے انکار کر دیا۔واضح رہے کہ جمعہ کو امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور یوکرینی صدر ولادیمیر زیلنسکی کی ملاقات میں تلخی پیدا ہو گئی تھی۔اس موقع پر دونوں رہنماؤں میں تکرار بھی ہوئی۔جو جھگڑے کی صورت اختیار کر گئی۔ٹرمپ انتظامیہ نے باقی مصروفیات منسوخ کر کے زیلنسکی کو وائٹ ہاؤس سے چلتا کردیا اور مشترکاپریس کانفرنس بھی منسوخ کر دی۔بعد ازاں وائٹ ہاؤس سے جانے کے بعد یوکرینی صدر نے ڈونلڈ ٹرمپ سے تلخ کلامی پر معافی مانگنے سے انکار کر دیا اور کہا کہ آج وائٹ ہاؤس میں جو کچھ ہوا وہ اچھا نہیں ہوا اگر ممکن ہو بھی جائے تو بھی وائٹ ہاؤس واپس نہیں جاؤں گا۔مجھے یقین نہیں ہے کہ ہم نے کچھ برا کیا ہے تاہم ان کا کہنا تھا کہ کاش ان جملوں کا تبادلہ صحافیوں کے سامنے نہ ہوتا۔یوکرینی صدر کا کہنا تھا کہ امریکی حمایت کے بغیر روسی افواج کا حملہ روکنا مشکل ہوگا امریکا کے ساتھ یقینا تعلقات کو بچایاجا سکتا ہے ایک شراکت دار کے طور پر امریکا کو کھونا نہیں چاہتے۔