استنبول کے میئر اور متوقع صدارتی امیدوار کی گرفتاری کیخلاف مظاہرے پھوٹ پڑے

ترکیہ میں اپوزیشن کے متوقع صدارتی امیدوار اکرم امام اوغلو کی گرفتاری کے خلاف احتجاج تیز کر دیا گیا مظاہروں کا سلسلہ مختلف شہروں تک پھیل گیا ہے۔ عالمی میڈیا کے مطابق ازمیر میں پولیس اور مظاہرین میں جھڑپ ہوئی، پولیس نے مظاہرین پر ربڑ کی گولیوں اورآنسو گیس کا استعمال کیا۔ 16 پولیس اہلکار زخمی، 50 سے زائد مظاہرین گرفتار کرلیا گیا۔عراقی وزارت خارجہ کے مطابق استبول میں عراقی قونصل خانے پرمسلح افراد نے فائرنگ کردی استبول سٹی ہال کے باہرپولیس نے مظاہرین کو منتشر کرنے کیلئے آنسو گیس اورواٹر کینن کا استعمال کیا میئراستبول امام اکرم اولو کوحراست میں لئے جانے کیخلاف مظاہرے جاری ہیں۔یہ مسلسل تیسری رات تھی جب مظاہرین امام اوغلو کی گرفتاری کے خلاف احتجاج کر رہے تھے امام اوغلو اردوان کے سب سے بڑے سیاسی حریف ہیں چہارپارٹی کے سربراہ اور اپوزیشن رہنما اوزگور اوزل نے امام اوغلو کی گرفتاری کے خلاف ملک بھر میں احتجاج کی کال دی تھی جس میں تین لاکھ سے زیادہ افراد شریک ہوئے۔اپوزیشن کے رہنما اوزگور اوزل نے استنبول سٹی ہال کے سامنے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ یہ چہار پارٹی کا احتجاج نہیں بلکہ اس میں تمام جماعتوں کے لوگ شامل ہیں جو میئر امام اوغلو کے ساتھ یکجہتی دکھانے اور جمہوریت کے حق میں کھڑے ہونے آئے ہیں۔انہوں نے مزید کہا اردوان امام اوغلو کا بازو مروڑنے کی کوشش کر رہے ہیں عدلیہ کو ایک ہتھیار کے طور پر استعمال کرتے ہوئے اس عمارت پر قابض ہونے کی کوشش کر رہے ہیں لیکن ہم اسے ایک حکومت کے مقرر کردہ سرپرست کے حوالے نہیں کریں گے۔دوسری طرف صدر اردوان نے کہا ہے کہ ترکی اسٹریٹ دہشت گردی کے سامنے سرنڈر نہیں کرے گا۔انہوں نے کہا کہ مجھے صاف اور واضح کہنے دو وہ سڑکوں پر احتجاج جو چہار پارٹی کے رہنما نے بلایا ہے وہ قوم کو اندھی گلی میں لے جانا چاہتے ہیں استنبول کے احتجاج سے پہلے حکومت نے سٹی ہال کے مرکزی راستوں کو بند کردیا جن میں گالاتا پل اور اتاترک پل شامل ہیں۔ترک میڈیا کے مطابق جمعرات کو پولیس نے استنبول اور انقرہ میں مظاہرین پر ربڑ کی گولیاں اور آنسو گیس چلائیں جبکہ کم از کم 88 مظاہرین کو گرفتار کیا گیا.

Protests erupt against arrest of Istanbul mayor and prospective presidential candidate

اپنا تبصرہ لکھیں