میانمار میں آنے والے طاقتور زلزلے کے بعد امدادی کارروائیاں جاری ہے جب کہ مرنے والوں کی تعداد مسلسل بڑھتی جا رہی ہے۔ میانمار کی حکومت نے ہفتے کے روز بتایا کہ اب تک 1,644 افراد کی ہلاکت کی تصدیق ہو چکی ہیں جب کہ دیگر ہزاروں افراد زخمی اور درجنوں لاپتا ہیں۔بینکاک میں ملبے تلے دبے زندہ افراد کو تلاش کرنے کے لیے امدادی ٹیمیں جدید ٹیکنالوجی کا استعمال کر رہی ہیں جن میں ڈرونز، روبوٹس اور کتوں کی مدد شامل ہے۔کھوجی کتے پہلے ہی ملبے کو چھان چکے ہیں جب کہ ڈرونز اور روبوٹس اب بھی ملبے میں پھنسے افراد کی نشاندہی میں مدد دے رہے ہیں۔ملائشیا، روس اور چین سمیت کئی ممالک نے امداد اور بچاؤ کی ٹیمیں روانہ کی ہیں۔ روس نے میانمار کے لیے ایک طبی ٹیم روانہ کی ہے بینکاک نے اپنی اموات کی تعداد کم کر کے چھ بتائی ہے جب کہ 26 افراد کے زخمی ہونے اور 47 کے لاپتہ ہونے کی اطلاع دی۔زیادہ تر لاپتہ افراد ایک زیر تعمیر بلند عمارت کے ملبے کے نیچے دبے ہوئے ہیں جو شہر کے مشہور چاتوچاک مارکیٹ کے قریب دھول کے بڑے بادل کے ساتھ منہدم ہو گئی میانمار اور تھائی لینڈ نے ملک میں ہنگامی حالت نافذ کر دی ہے۔