امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ وہ تیسری مدت کے لیے بھی صدارتی انتخاب لڑ سکتے ہیں اور یہ با ت مذاق نہیں.امریکی نیوز چینل این بی سی کے ساتھ ایک انٹرویو میں جب ٹرمپ سے تیسری مدت کے امکان کے بارے میں پوچھا گیا توانھوں نے کہا کہ وہ مذاق نہیں کر رہے بہت سے لوگ چاہتے ہیں کہ وہ ایسا کریں امریکی آئین یہ کہتا ہے کہ کوئی بھی شخص کسی بھی عہدے کے لیے دو بار سے زیادہ منتخب نہیں ہو سکتا لیکن ٹرمپ کے کچھ حامیوں نے تجویز کیا ہے کہ اس کا حل نکل سکتا ہے۔ ٹرمپ اپنی دوسری صدارتی مدت کے اختتام پر 82 سال کے ہو جائیں گے۔ انٹرویو کے دوران ان سے پوچھا گیا کہ کیا وہ ملک کی مشکل ترین نوکری میں اپنی خدمات جاری رکھنا چاہیں گے.اس کے جواب میں اُنھوں نے کہا کہ انہیں کام کرنا پسند ہے۔واضحرہے کہ اس سے قبل انھوں نے جنوری میں اپنے حامیوں سے کہا تھا کہ یہ میری زندگی کا سب سے بڑا اعزاز ہو گا کہ ایک بار نہیں بلکہ دو تین یا چار بار میں آپ کی خدمت کروں۔ ٹرمپ کے حامیوں کا کہنا ہے کہ امریکی آئین میں خامیاں ہیں۔ انہوں نے اس کا حل بتاتے ہوئے کہا کہ ٹرمپ 2028 کے انتخابات میں نائب صدر کے عہدے کے لیے امیدوار بن سکتے ہیں جبکہ موجودہ نائب صدر جے ڈی وینس صدارتی امیدوار ہوں سکتے ہیں اور اگر وہ جیت جاتے ہیں تو وینس وائٹ ہاؤس میں حلف اٹھانے کے فوراً بعد مستعفی ہو جائیں تو ٹرمپ کو صدر کا عہدہ سنبھالنے کا موقع مل جائے گا۔امریکی آئین کی 22 ویں ترمیم میں کہا گیا ہے کہ آئین کسی بھی شخص کو تیسری مدت کے لیے کام کرنے کی اجازت نہیں دیتا۔یاد رہے کہ امریکی آئین میں کسی بھی تبدیلی کے لیے سینیٹ اور ایوان نمائندگان دونوں میں دو تہائی ووٹوں سے منظوری درکار ہوگی۔ اس کے ساتھ اس تبدیلی کے لیے امریکہ کی 50 ریاستوں میں سے تین چوتھائی ریاستوں کی منظوری بھی ضروری ہے۔ٹرمپ کی ریپبلکن پارٹی کانگریس کے دونوں ایوانوں کو کنٹرول کرتی ہے لیکن اس کے پاس اس آئینی ترمیم کے لیے درکار اکثریت نہیں ہے۔