امریکا میں ٹرمپ کی سخت گیر پالیسیوں کیخلاف مظاہرے

واشنگٹن سمیت امریکا کے دیگر شہروں میں ہزاروں مظاہرین نے ڈونلڈ ٹرمپ اور ان کی سخت گیر پالیسیوں کے خلاف مظاہروں کے دوسرے بڑے مرحلے میں ریلیاں نکالیں۔غیرملکی میڈیا کے مطابق نیو یارک میں مظاہرین شہر کی مرکزی لائبریری کے باہر جمع ہوئے جن کے پاس امریکی صدر کے خلاف تحریر کیے گئے نعروں بینرز تھے اب بینرز پر امریکا میں کوئی بادشاہ نہیں اور ظلم کے خلاف مزاحمت جیسے نعرے درج تھے۔واشنگٹن میں مظاہرین نے اس بات پر تشویش کا اظہار کیا کہ ٹرمپ طویل عرصے سے قابل احترام آئینی اصولوں کو خطرے میں ڈال رہے ہیں جن میں مناسب کارروائی کا حق بھی شامل ہے۔انتہائی قدامت پسند ٹیکساس کے ساحلی شہر گیلویسٹن میں ٹرمپ مخالف مظاہرین کا ایک چھوٹا سا اجتماع ہوا ا جبکہ سان فرانسسکو کرونیکل کی رپورٹ کے مطابق مغربی ساحل پر سیکڑوں افراد سان فرانسسکو کے ایک ساحل پر جمع ہوئے اور مواخذہ، ہٹائو کے الفاظ لکھے۔دیگر لوگوں نے الٹا امریکی جھنڈا اٹھا رکھا تھا جو روایتی طور پر پریشانی کی علامت تھا منتظمین کو امید ہے کہ ٹرمپ کے امیگریشن کریک ڈاؤن سرکاری ایجنسیوں میں ان کی سخت کٹوتیوں اور یونیورسٹیوں، نیوز میڈیا اور قانونی فرموں پر دباؤ کے بارے میں بڑھتی ہوئی ناراضگی کو ایک پائیدار تحریک بنانے کے لیے استعمال کریں گے.ہفتے کے روز ہونے والے مظاہروں کے چیف آرگنائزر گروپ 50501 جو 50 ریاستوں اور ایک تحریک کے 50 مظاہروں کی نمائندگی کرتا ہے کا کہنا تھا کہ تقریباً 400 مظاہروں کی منصوبہ بندی کی گئی ہے۔اس گروپ نے ہفتہ کے روز لاکھوں افراد سے شرکت کی اپیل کی تھی تاہم 5 اپریل کو ملک بھر میں ہونے والے ہینڈز آف مظاہروں کے مقابلے میں شرکا کی تعداد کم دکھائی دی۔

Massive protests in the US against Trump’s hardline policies

اپنا تبصرہ لکھیں