چین میں مقامی طور پر تیار کردہ دنیا کے سب سے بڑے اور سب سے وزنی ایمفیبیئس طیارے سی پلین ماڈل اے جی 600 کو اتوار کو چین کی سول ایوی ایشن ایڈمنسٹریشن کی جانب سے ٹائپ سرٹیفکیٹ مل گیا جس سے اسے مارکیٹ میں متعارف کرائے جانے کی راہ ہموار ہوگئی. واضح رہے کہ ایمفیبیئس طیارے پانی اور خشکی دونوں سے اڑان بھرنے اور لینڈ کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ دنیا کے سب سے بڑے اور سب سے بھاری ایمفیبیئس طیارے اے جی 600 نے سخت جانچوں کی ایک طویل فہرست مکمل کرلی ہے اور مارکیٹ میں آنے کی اجازت حاصل کرلی ہے۔مرکزی حکومت نے جون2009 میں اے جی 600 کی تیاری کی منظوری دی تھی اور اسی سال ستمبر میں اس پر کام شروع ہوا تھا اس پروگرام میں 312 ملکی اداروں، کاروباری اداروں اور یونیورسٹیوں کے ہزاروں محققین اور انجینئرز نے حصہ لیا پہلے پروٹوٹائپ کی تعمیر مارچ 2014 میں شروع ہوئی اور جولائی 2016 میں مکمل ہوئی۔اے جی 600 نے دسمبر 2017 میں جنوبی چین کے صوبے گوانگ ڈونگ کے شہر ژوہائی میں اپنی پہلی پرواز کی تھی دس ماہ بعد طیارے نے وسطی چین کے صوبہ ہوبئی کے جنگمین میں ژانگہی ریزروائر پر پانی پر پہلا ٹیک آف اور لینڈنگ کی۔یہ تین بڑے سائز کے طیاروں میں سے ایک ہے اس سے قبل وائی-20 اسٹریٹجک ٹرانسپورٹ طیارے اور سی 919 نیرو باڈی جیٹ لائنر فعال خدمات انجام دے رہے ہیں۔اے جی 600 ایس ایچ -5 کے بعد یہ چین کا دوسرا ایمفیبیئس طیارہ ہے ، جسے 1970 کی دہائی میں فوجی مقاصد کے لیے تیار کیا گیا تھا اور طویل عرصے سے سروس سے ریٹائر ہوچکا ہے۔
