ہارورڈ یونیورسٹی نے ٹرمپ انتظامیہ پر مقدمہ کردیا

ہارورڈ یونیورسٹی نے 2 ارب 20 کروڑ ڈالر کی فنڈنگ روکے جانے پر ٹرمپ انتظامیہ کیخلاف عدالت میں مقدمہ دائر کر دیا . ہارورڈ یونیورسٹی کے صدر 69 سالہ ایلن گاربر نے صدر ٹرمپ کی ٹیم پر الزام عائد کیا ہے کہ وہ وفاقی فنڈز کی فراہمی کو برقرار رکھنے کے لیے کیمپس کے معاملات پر بے مثال اور نامناسب کنٹرول حاصل کرنا چاہتی ہے۔واضح رہے کہ ٹرمپ انتظامیہ نے ہارورڈ یونیورسٹی کی 2.2 ارب ڈالر کی وفاقی فنڈنگ منجمد کر دی تھی اور ساتھ ہی یونیورسٹی کی ٹیکس فری حیثیت ختم کرنے کی دھمکی بھی دی تھی۔گاربر نے ایک بیان میں متنبہ کیا کہ ان اقدامات کے مریضوں، طلبہ، فیکلٹی، عملے، محققین اور دنیا میں امریکی اعلیٰ تعلیم کی ساکھ پر سنگین نتائج مرتب ہوں گے۔یونیورسٹی کی جانب سے دائر مقدمے میں کہا گیا ہے کہ یہ کیس حکومت کی اُس کوشش سے متعلق ہے جس میں وہ فنڈنگ کو دباؤ کے طور پر استعمال کر کے ہارورڈ کی علمی خودمختاری پر اثرانداز ہونا چاہتی ہے۔ واضح رہے کہ کارنیل یونیورسٹی کی ایک ارب ڈالر کی فنڈنگ اور براؤن یونیورسٹی کی 510 ملین ڈالر کی رقم بھی معطل کی گئی ہے۔ کولمبیا یونیورسٹی، جو گزشتہ برس فلسطین کے حامی مظاہروں کا مرکز بنی 400 ملین ڈالر کی فنڈنگ کی معطلی کے بعد بعض حکومتی مطالبات تسلیم کر لیے۔حکومت کی جانب سے ہارورڈ سے مطالبہ کیا گیا تھا کہ وہ یونیورسٹی کے نصاب، بھرتیوں اور داخلوں کے ڈیٹا پر حکومت سے منظور شدہ آزاد آڈٹ کی اجازت دے۔ جواب میں ہارورڈ نے ایک سخت موقف اپنایا اور ان مطالبات کو مسترد کر دیا۔یونیورسٹی کے وکلا نے 14 اپریل کو حکومتی حکام کو آگاہ کیا کہ ہارورڈ نہ تو اپنی خودمختاری ترک کرے گا اور نہ ہی اپنے آئینی حقوق سے دستبردار ہو گا۔

Harvard University sues Trump administration

اپنا تبصرہ لکھیں