امریکی طیارہ بردار جہاز سے ایف 18 طیارہ سمندر میں گرنے کی وجہ سامنے آگئی

امریکی نشریاتی ادارے سی این این نے ذرائع کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا ہے کہ جہاز کے بحیرہ احمر میں حوثیوں کے حملے سے بچنے کی کوشش کے دوران طیارہ سمندر میں گرا۔قبل ازٰیں امریکی بحریہ کی جانب کہا گیا تھا کہ بحیرہ احمر میں تعینات امریکی طیارہ بردار بحری جہاز یو ایس ایس ہیری ایس ٹرومین سے ایک ایف 18 لڑاکا طیارہ سمندر میں گرگیا۔امریکی بحریہ کی جانب سے کہا گیا تھا کہ طیارے کے ساتھ اسے کھیچنے والا ٹریکٹر بھی سمندر میں گرا اور اس واقعے میں ایک اہلکار زخمی ہوا تاہم بحریہ نے اس واقعے کی مزید تفصیلات بتانے سے گریز کیا۔امریکی ٹی وی نے ذرائع کے حوالے سے بتایا کہ حوثیوں کے حملے سے بچنے کے لیے طیارہ بردار بحری جہاز نے تیزی سے اپنا رخ موڑا اس دوران طیارے کو جہاز میں ایک جگہ سے دوسری جگہ منتقل کیا جارہا تھا تاہم جہاز کے تیزی سے رخ موڑنے کے باعث طیارہ قابو سے باہر ہوگیا۔امریکی میڈیا کے مطابق کسی میزائل حملے کے دوران طیارہ بردار بحری جہاز سیدھی سمت میں جانے کے بجائے بار بار اور تیزی سے اپنا رخ تبدیل کرتے رہتے ہیں۔امریکی میڈیا کے مطابق امریکی طیارہ بردار بحری جہاز دنیا کے سب سے بڑے بحری جہاز ہیں لیکن اپنے حجم کے لحاظ سے حیرت انگیز طور پر تیزی سے حرکت کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔

US plane crashes into sea after ship swerves to avoid Houthi attack. Reason revealed

اپنا تبصرہ لکھیں