ٹرمپ نے ہارورڈ یونیورسٹی کو غیر ملکی طلبا کو داخلہ دینے سے روک دیا

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ نے ہارورڈ یونیورسٹی کو غیرملکی طلبا کو داخلہ دینے سے روک دیا ہے۔ امریکی محکمہ ہوم لینڈ سکیورٹی کی جانب سے جاری کردہ اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ ہارورڈ یونیورسٹی کی اسٹوڈنٹ اور وزیٹر ایکسچینج پروگرام کی سرٹیفیکیشن منسوخ کر دی گئی ہے جس کے نتیجے میں یونیورسٹی اب غیرملکی طلبا کو داخلہ نہیں دے سکتی۔امریکی اخبار کا کہنا ہے کہ سیکرٹری ہوم لینڈ سکیورٹی کرسٹی نوم نے یونیورسٹی کو خط میں ٹرمپ انتظامیہ کے اقدام سے آگاہ کیا اور بتایا کہ اقدام ہوم لینڈ سکیورٹی کی یونیورسٹی میں جاری تفتیش کے لیے کیا جا رہا ہے۔امریکی محکمہ ہوم لینڈ سکیورٹی کے مطابق ہارورڈ یونیورسٹی غیرملکی طلبا کو داخلہ نہیں دے سکتی اور موجودہ زیر تعلیم غیرملکی طلبا کو ٹرانسفر کرنا ہوگا۔امریکی ہوم لینڈ سیکیورٹی کی سربراہ کرسٹی نوم کا کہنا تھا کہ بین الاقوامی طلبہ کو داخلہ دینا کوئی حق نہیں بلکہ ایک مراعت ہےاور نجی یونیورسٹیاں ان طلبہ سے زائد فیس وصول کر کے اپنی بلین ڈالر اینڈومنٹس کو مضبوط بناتی ہیں۔اس سے قبل امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ نے ہارورڈ یونیورسٹی کی اربوں ڈالر کی امداد روک دی تھی۔ٹرمپ انتظامیہ اور ہارورڈ کے درمیان کشیدگی میں اس وقت اضافہ ہوا جب یونیورسٹی نے حکومتی دباؤ کے باوجود دیگر یونیورسٹیوں کے برخلاف اپنے تعلیمی و انتظامی معاملات میں مداخلت قبول کرنے سے انکار کر دیا تھا۔ہارورڈ یونیورسٹی نے اس فیصلے کو غیر قانونی اقدام قرار دیتے ہوئے شدید ردعمل دیا ہے۔ یونیورسٹی کے ترجمان کے مطابق یہ اقدام نہ صرف ہارورڈ بلکہ امریکہ کی اعلیٰ تعلیمی ساکھ کے لیے بھی نقصان دہ ہے۔

Trump blocks Harvard University from admitting foreign students

اپنا تبصرہ لکھیں